پاکستان میں پہلا اسمارٹ فون تیار کرلیا گیا

لاہور : غیر ملکی کمپنی نے پاکستان میں پہلا موبائل تیار کرلیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری تصاویر کے ساتھ صوبائی وزیر انڈسٹریز اور کامرس میاں اسلم اقبال نے لکھا کہ ’’ میڈ -اِن پاکستان موبائلز اب ایک حقیقت بن گئے ہیں۔ ویوو موبائلز فیصل آباد اقتصادی زون نے اسمارٹ فون پروڈکشن کا آغاز کردیا ہے اور جلد ہی دیگر غیرملکی کمپنیاں بھی جلد ہی اس کام کا آغاز کردیں گی ۔

‘‘ انہوں نے مزید لکھا کہ ’’وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کی سرپرستی میں موبائل فونز بنانے کی پالیسی کے نفاذ کے بعد مثبت نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں‘‘۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس بتایا گیا تھا کہ معروف کورین ٹیکنالوجی کمپنی سام سانگ نے پاکستان میں اسمبلی پلانٹ لگانے پر سنجیدگی سے غور شروع کر دیا ہے۔

اس حوالے سے وفاقی وزیر صنعت حماد اظہر نے سماجی رابطے کی ویب سایٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ حال ہی میں متعارف کروائی گئی موبائل پالیسی اور ڈی آئی آر بی ایس سسٹم کی وجہ سے پاکستان میں اسمارٹ فونز کی پروڈکشن میں بڑا اضافہ ہو اہے۔ انہوں نے کہا کہ سام سنگ کے اعلیٰ حکام سے ملاقات ہوئی ہے۔سام سنگ پاکستان کے ایم ڈی اور سی ای او نے حکومتی پالیسی اور اقدامات کو سراہا ہے۔

ضرور پڑھیں  عالمی بینک نے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے، وزیر خزانہ اسد عمر

پاکستان میں اپنے سمارٹ فون اسمبلنگ پلانٹ کے قیام پر سنجیدگی کا اظہار کیا ہے۔ 11 مارچ2020ء کو وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور حماد اظہر سے ٹرانسیون ٹیکنو الیکٹرانکس پاکستان کے سربراہ نے ملاقات کی تھی۔ ٹرانسیون کے سی ای او نے کہا کہ پاکستان میں سمارٹ فون اسمبلی پلانٹ نے پیداوار شروع کردی ہے ۔پلانٹ میں سالانہ 30لاکھ سمارٹ فون ہینڈ سیٹ تیار کئے جائیں گے جبکہ ایک سال کے اندر اس کی پیداوار 13ملین سالانہ تک پہنچ جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ڈی آئی آر بی ایس سسٹم نیا مارکیٹ کھولنے میں بنیادی عنصر اور اہمیت کا حامل ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ اب سمارٹ فونز کی برآمد پر توجہ دے رہے ہیں کیونکہ پاکستان میں قائم یہ پلانٹ دنیا بھر میں ٹرانسیون گروپ کے تمام پلانٹس کی نسبت سب سے زیادہ موثر ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگلے تین سال میں 49فیصد ہینڈ سیٹ پارٹس مقامی سطح پر تیار کرنیکا ہدف مقرر کر دیا ہے جب کہ سمارٹ فونز کی بر آمدات کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے ،جس کی واضح مثال یہ ہے کہ ویت نام سالانہ 37 ارب ڈالر کے ہینڈ سیٹس بر آمد کرتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں