کورونا کی صورتحال پر مکمل قابو پانے میں تین سے چار سال لگیں گے

اسلام آباد : ملک بھر میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں نمایاں کمی آنے کے بعد کورونا پابندیوں میں بھی نرمی کر دی گئی ہے البتہ کورونا کے حوالے سے ڈاکٹر جاوید اکرم کا کہنا ہے کہ کورونا کی صورتحال پر مکمل قابو پانے کے لیے تین سے چار سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے وائس چانسلر یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا کہ کورونا وائرس میں ایک درجن سے زائد اشکال سامنے آئی ہیں جب کہ ڈیلٹا ویرینٹ کے سدباب کے لیے ویکسین موجود ہے۔

ڈاکٹر جاوید اکرم کا کہنا ہے کہ کورونا کی صورتحال پر مکمل قابو پانے میں تین سے چار سال لگیں گے۔ خیال رہے کہ پاکستان میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح دو فیصد پر برقرار ہے۔

چوبیس گھنٹے کے دوران کورونا سے مزید 20 افراد انتقال کرگئے۔ کورونا وائرس کی جاری تیسری لہر کے دوران پاکستان کورونا مریضوں کی تعداد کے حوالے سے مرتب کی گئی فہرست میں 29 ویں نمبر پر ہے، ملک میں کورونا سے اموات میں غیر معمولی کمی دیکھنے میں آئی ۔

لیکن اس کے باوجود وفاقی حکومت نے خبردار کیا ہے کہ جولائی میں کورونا کی چوتھی لہرآنے کا خدشہ ہے۔ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اور سربراہ این سی اوسی اسد عمر نے کہا کہ جولائی میں ملک میں عالمی وباء کورونا وائرس کی چوتھی لہر آنے کا خدشہ ہے۔ ٹویٹر پر جاری کیے گئے اپنے ایک پیغام میں اسد عمر نے کہا کہ کورونا کی چوتھی لہر کے خدشے کے پیش نظر ضروری ہے کہ عوام ناصرف کورونا وباء سے بچاؤ کے ایس او پیز پر سختی سے عمل کریں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ جلد ویکسی نیشن بھی کروائیں۔

ضرور پڑھیں  افغان مذاکرات کے تمام فریقین تحمل سے کام لیں، دفتر خارجہ

اپنا تبصرہ بھیجیں