عارف والا کیسے بنا

تحریر شفیق پھول

عارفوالا شہر کی تاریخ پر ایک مختصر نظرچار بازاروں والا شہر:
دہلی تا ملتان روڑ پر واقع زرعی اجناس اور خاص اہمیت کا حامل شہر (عارفوالا) کو چار بازاروں والا شہر بھی کہا جاتا ہے۔ان چار بازاروں میں قبولہ بازار، تھانہ بازار، ریل بازار اور کارخانہ بازار کے نام سرِفہرست ہیں اور جناح چوک مشہور و معروف گول چوک یا گول بازار ان چاروں بازاروں کا مرکز ہے۔تعارف:موجودہ شہر عارفوالا پہلے ایک گاؤں تھا، جس کا نام چک نمبر 61 ای۔بی تھا۔اس شہر کا نام ایک مقامی زمیندار محمد عارف سے منسوب کیا جاتا ہے جو کہ علاقے کا بڑا زمیندار ہونیکی وجہ سے انگریز افسران سے گہرے مراسم رکھتا تھا۔حکومتِ برطانیہ کے دور میں جو بھی انگریز افسر اس علاقہ میں وزٹ یا سیرو تفریح کے لیے آتے، وہ اسی زمیندار محمد عارف کے پاس قیام کرتے تھے۔موجودہ چمن ہوٹل نزد تحصیل میونسپل آفس ( بلدیہ) کی جگہ کسی وقت میں محمد عارف کا ڈیرہ تھا، جہاں آنے جانے والے مسافروں کیلئے آرام گاہ بنائی گئی تھی۔تاریخ:1900 میں موجودہ شہر عارفوالا صرف ایک گاؤں ہی تھا۔

1908 میں پنجاب کے ڈپٹی گورنر کا عہدہ ہربرٹ ولیم ایمرسن کے پاس تھا۔انہوں نے چک 61 ای بی کو ترقی دیتے ہوئے ٹاؤن کا درجہ دے دیا اور اس کا نام عارف والا رکھ دیا۔27 اپریل 1927 میں مسز ایف بی ویس نے ٹاؤن عارفوالا اور غلہ منڈی عارفوالا کا افتتاح کیا۔ ان کا شوہر اس وقت کوآپریٹو سوسائٹی کے رجسٹرار تھے۔6 مارچ 1931 کو عارف والا میں ٹاؤن ہال (بلدیہ) کا سنگِ بنیاد رکھا گیا۔ اس ہال کو مکمل ہونے میں دو سال کا عرصہ لگا اور اسے سر ہربرٹ ولیم ایمرسن کے گورنر پنجاب بننے کے اعزاز میں عوام الناس کیلئے کھول دیا گیا۔20 فروری 1932 میں پبلک لائبریری کا سنگِ بنیاد سردار ہزارہ سنگ گِل (اس وقت کے ذیلدار) نے رکھا۔1987 میں ٹاؤن عارف والا کو سب ڈویژن کا درجہ دے دیا گیا۔1995 میں عارف والا کو تحصیل کا درجہ دیتے ہوئے اسے نئے بننے والے ضلع پاکپتن میں شامل کر دیا گیا۔بنیادی طور پر شہر عارفوالا تحصیل کا ہیڈ کوارٹر ہے جو کہ چار یونین کونسلز میں انتظامی منقسم کیا گیا ہے جبکہ تحصیل عارفوالا تیس یونین کونسلز میں منقسم ہے۔حدودِ اربع:عارفوالا لاہور شہر سے تقریباً 250 کلومیٹر دور جنوب مغرب میں واقع ہے۔عارفوالا کے مشرق میں اس کا ضلع پاکپتن ہے جو تقریباً 36 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

ضرور پڑھیں  باغوں کا شہر لاہور اپنے اصل کی طرف گامزن

مغرب میں تقریباً 35 کلومیٹر کے فاصلے پر بورے والا، شمال میں تقریباً 46 کلومیٹر کے فاصلے پر ساہیوال اور جنوب میں 25 کلومیٹر پر دریائے ستلج اور تقریباً 35 کلومیٹر کے فاصلے پر بہاولنگر شہر ہے۔عارفوالا شہر ستلج اور بیاس کے درمیان واقع ہے اور یہ علاقہ نیلی بار بھی کہلاتا ہے۔عارفوالا کی زیادہ تر آبادی کسانوں پر مشتمل ہے۔ 75 فیصد آبادی دیہاتوں میں جبکی 25 فیصد آبادی شہری علاقہ میں رہتی ہے۔لوگوں کا بنیادی پیشہ زراعت (کھیتی باڑی) ہے۔ اس شہر کی آبادی تقریباً 9 نو لاکھ سے زائد ہے۔ تحصیل عارفوالا 255 دیہاتوں پر مشتمل ہے۔رقبہ:اسکا کل رقبہ دو لاکھ 95 ہزار 146 ایکڑ یعنی 1180 مربع کلومیٹر ہے۔ یہ شہر سطح سمندر سے تقریباً 420 فٹ اونچا ہے۔آب و ہوا/موسم:شہر عارفوالا کا موسم گرم اور خشک ہے۔ موسمِ گرما اپریل سے شروع ہوتا ہے اور اکتوبر تک جاری رہتا ہے۔مئی، جون، جولائی اور اگست گرم ترین مہینے ہیں۔ ان مہینوں میں زیادہ سے زیادہ درجہء حرارت 40 تا 50 ڈگری اور کم از کم 28 ڈگری تک ہوتا ہے۔ شہر کے نواح و مضافات میں مٹی بہت زرخیز ہے۔صنعت:عارفوالا شہر کی صنعت بنیادی طور پر زراعت پر انحصار کرتی ہے۔ اسمیں بنیادی صنعتیں مشروبات و خوراک تیار کرنے والے کارخانے، رائس ملز، فلور ملز، کاٹن فیکٹریاں، کھاد بنانے والی کمپنیاں، ویجیٹیبل گھی اینڈ کوکنگ آئل ملز، پولٹری فیڈز، سیڈز کارپوریشنز اور مرغی خانہ جات شامل ہیں۔

اہم جگہیں و عمارات کیا کب بنا؟· چک 61 ای۔بی 1900ء میں گاؤں کو ٹاؤن کا درجہ ملا 1908ء میں ریلوے اسٹیشن 1924ء میں غلہ منڈی اور ٹاؤن عارفوالا کا 1927ء میں تھانہ صدر کی عمارت 1929ء میں عارف والا پبلک لائبریری 1932ء میں ٹاؤن ہال (بلدیہ) کا افتتاح 1933ء میں ریلوے مال گودام (Goods Office) 1936ء میں ڈاک خانہ (تھانہ بازار گول چوک) 1981ء میں پولیس اسٹیشن 1986ء میں عارفوالا سب ڈویژن 1987ء میں عدالتیں (کچہری) 1989ء میں تحصیل عارف والا 1995ء میں موجودہ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال (THQ) 1998ء میں موجودہ واپڈا کمپلیکس (ڈویژن آفس تحصیل روڑ) 2002ء میں بنا جبکہ اس سے پہلے یہ سب ڈویژن آفس پاکپتن تھا مشہور چیزیں/اشیاء:
عارفوالا شہر کے خربوزے دیگر شہروں میں بہت مشہور ہیں۔ دوکان دار اور ریڑھی پر بیچنے والے حضرات عارف شہر کا نام لے لے کر خربوزے بیچتے ہیں۔زرعی اجناس سبزیات و فروٹ کی پیداوار میں اضافہ کی وجہ سے پورے ملک میں عارفوالا کی اجناس سرِفہرست ہیں۔اسی اہمیت کے پیشِ نظر انگریز سرکار نے ریلوے اسٹیشن کو دو حصوں میں تقسیم کیا تھا جن میں ایک پلیٹ فارم افرادی نقل و حمل کے لیے اور دوسرا پلیٹ فارم زرعی اجناس کی نقل وحمل کے لیے بنایا گیا ہے جو اب بھی موجود ہیں۔