ملک میں بھارت جیسا کورونا وائرس آںے کا خدشہ

احتیاط نہ کی گئی تو جولائی کے آخر یا اگست کے آغاز میں کورونا کی چوتھی لہر آ سکتی ہے، انڈیا جیسے کورونا وائرس کا خطرہ ہے۔ڈاکٹر قیصر سجاد

اسلام آباد : پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر قیصر سجاد کا کہنا ہے کہ ملک میں کورونا کیسز دوبارہ بڑھ رہے ہیں۔ڈاکٹر قیصر سجاد نے کہا کہ شہریوں نے ایس او پیز پر عمل چھوڑ دیا ہے۔احتیاط نہ کی گئی تو جولائی کے آخر یا اگست کے آغاز میں کورونا کی چوتھی لہر آ سکتی ہے۔انہوں نے کہا انڈیا جیسے کورونا وائرس کا خطرہ ہے۔

انہوں نے شہریوں سے ایس او پیز پر عمل درآمد کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ عید پر گلے ملنے اور ہاتھ ملانے سے گریز کریں، عوام بلا تاخیر ویکیسن لگوائیں۔اسی حوالے سے وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا ہے کہ گزشتہ ہفتے کے اعداد و شمار بتا رہے ہیں کہ کورونا وائرس کے کیسز میں اضافہ ہوا۔

اپنے بیان میں معاون خصوصی نے کہا کہ کورونا کیسز اور دیگر پیرا میٹرز میں اضافہ ہوا لیکن کم رہا۔

ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ ماسک کا استعمال، ہجوم سے دوری اور ویکسینیشن کے ذریعے کورونا وائرس سے بچا جاسکتا ہے۔قبل ازیں ماہرین طب نے کہا ہے کہ عیدالاضحی پرکووڈ19 کی چوتھی لہر زیادہ خطرناک ہوسکتی ہے ، عیدقربان کے موقع پرجانورکی خریداری کے لیے لاکھوں افراد منڈیوں کا رخ کرتے ہیں، جس سے اس بات کا قومی امکان ہے کہ یہ وائرس شدت اختیار کر سکتا ہے لہٰذا جانوروں کی منڈیوں میں غیرضروری جانے سے گریز کیاجائے،

ضرور پڑھیں  چین کا پاکستان کو کورونا ویکسین کی بڑی مقدار فراہم کرنے کا فیصلہ

منڈی میں بچوں اور اہل خانہ کو ہرگزساتھ نہ لایا جائے، جانوروں کی خریداری کے لیے اگر جانا ضروری ہے تو ہاتھوں پر مکمل دستانے، منہ پر ماسک اور جوتے ضرور پہنے، انھوں نے بتایا کہ کوویڈ کی چوتھی لہر کی شدت تیسری لہر سے زیادہ متوقع ہوگی، لہذا کوویڈ وائرس سے محفوظ رہنے کیلیے فوری طور پر ویکسی نیشن کرائی جائے،

ایک جانور کی خریداری کے موقع پر جانور کے جسم پرسیکٹروں افراد ہاتھ لگاتے ہیں اگرکسی کے ہاتھ میں موجودوائرس جانور کی کھال پر منتقل ہوسکتا ہے اوراس جانور سے یہ وائرس انسانوں میں بھی منتقل ہونے کا ذریعہ بن سکتا ہے لہذا ایسی وبائی صورت میں جانورکی خریداری آن لائن ہی محفوظ ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں