افغان طالبان کا جیل پر حملہ، تمام قیدی رہا کرا لیے

قابل : افغان طالبان نے افغان صوبے باد غیس کے ضلع قادس پر حملہ کر دیا۔تفصیلات کے مطابق میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان طالبان نے باد غیس جیل سے تمام قیدی رہا کر لیے۔طالبان کی جناب سے جیل پر حملہ کیے جانے کے بعد لاؤڈ اسپیکر سے اعلان کیا گیا کہ جیل کا دروازہ کھلا ہے تمام قیدی باہر آ جائیں۔طالبان نے جیل سے تمام عام اور خاص قیدیوں کو رہا کروا دیا۔

باد غیس کے دارالحکومت قلعہ نیو میں افغان آرمی کے افسر خواجہ مراد نے طالبان کے سامنے سرنڈر کر دیا۔ضلعی چیف خدادا طیب نے بھی 200 اہلکاروں سمیت طالبان کے سامنے سرنڈر کر دیا۔ضلع قادس کے پولیس ہیڈ کوارٹرز اور تمام چوکیوں پر طالبان نے قبضہ کر لیا۔خیال رہے کہ افغانستان سے امریکی فوج کا 90 فی صد سے زیادہ انخلا مکمل ہوچکا ہے۔
امریکا کی مرکزی کمان کے مطابق جنگ زدہ ملک سے فوجیوں اور ان کے زیراستعمال سازوسامان کو واپس امریکا یا دوسرے ممالک میں منتقل کیا کیا جارہا ہے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان نے ایک بیان میں کہا کہ صدر جو بائیڈن کے انخلا کے فیصلے کے بعد سے سی 130 مال بردار طیاروں کی 984 پروازوں کے ذریعے فوجی سازوسامان افغانستان سے باہر منتقل کیا جاچکا ہے۔ ان میں سے 17074 فوجی آلات ٹھکانے لگانے کے لیے ڈیفنس لاجیسٹکس ایجنسی کے حوالے کیے گئے ہیں۔پینٹاگان نے مزید کہا کہ امریکا نے اپنے زیراستعمال سات فوجی اڈوں کو سرکاری طور پرافغان وزارت دفاع کے حوالے کردیا ہے۔

امریکی صدر جوبائیڈن کے اعلان کے مطابق افغانستان سے امریکی اورنیٹو فوج کے انخلا کا یکم مئی کو آغاز ہوا تھا۔ تب افغانستان میں امریکا کے ڈھائی سے ساڑھے تین ہزارفوجی اور نیٹو کے قریبا سات ہزار فوجی موجود تھے۔اب ان میں بہت تھوڑی تعداد افغانستان میں رہ گئی ہے۔امریکی فوج نے اپنا بہت سا سامان افغان سکیورٹی فورسز کے حوالے کیا اوربگرام کے ہوائی اڈے اوردوسرے مقامات پر بہت سے فوجی سازو سامان اورآلات کو ناکارہ کرکے ایسے ہی پھینک دیا ہے۔

ضرور پڑھیں  مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی میں 2 نوجوان شہید

بران یونیورسٹی کے جنگ کی لاگت منصوبہ کے مطابق امریکا نے افغانستان میں گذشتہ دو عشروں کے دوران میں 20 کھرب ڈالر جھونک دیے ہیں۔واضح رہے کہ صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے اپریل میں افغانستان میں موجود باقی ماندہ فوج کا انخلا 11ستمبر2021 تک مخرکرنے کا اعلان کیا تھا۔افغان طالبان اورسابق ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان فروری2020 میں طے شدہ سمجھوتے کے مطابق رواں سال یکم مئی تک جنگ زدہ ملک سے امریکی فوجیوں کا انخلا مکمل ہونا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں