پاکستان اسٹیل ملز کا کوئی خریدار نہیں، نجکاری لسٹ سے نکالنے کا فیصلہ

اسلام آباد : سیکرٹری نجکاری کمیشن کے مطابق پاکستان اسٹیل ملز کا کوئی خریدار نہیں جس کے بعد اسے نجکاری لسٹ سے نکالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسٹیل ملز کو نجکاری لسٹ سے ڈی لسٹ کرنے کیلئے نجکاری کمیشن کی تجاویز وفاقی کابینہ کو ارسال کر دی گئیں۔سیکرٹری نجکاری کے مطابق اسٹیل ملز بند پڑی ہیں لیکن سالانہ 30 ارب کے نقصانات قومی خزانہ پر پڑ رہے، اسٹیل ملز حکومت پاکستان کی 110 کی مقروض ہے جس پر 18 ارب سود ادا کرنا پڑتا، سی ایف او اسٹیل ملز کے مطابق اسٹیل ملز کے سالانہ 2.5 ارب کے تنخواہ اور پینشنز کی مد میں اخراجات ہیں۔
ایڈیشنل سیکرٹری صنعت و پیداوار نے کہا اسٹیل ملز کو نجکاری لسٹ سے ڈی لسٹ کر کے ایکسپورٹ پرموشن زون بنایا جائے گا۔
اسٹیل ملز کی بحالی میں کم سے کم 4 سے 6 ماہ لگ سکتے ہیں۔قبل ازیں نگران وزیر برائے نجکاری فواد حسن فواد نے پاکستان اسٹیل ملززکو ڈیڈ اثاثہ قراردے دیا تھا۔ نگران وزیر نجکاری فواد حسن فواد نے وزیراطلاعات مرتضیٰ سولنگی کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کی، اس موقع پر نگران وزیر نجکاری فواد حسن فواد نے کہا کہ پی آئی اے کی جلد نجکاری کرنے کا فیصلہ ہے،فواد حسن فواد نے پاکستان اسٹیل مل کو ڈیڈ اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اسٹیل کی نجکاری ہوسکتی ہے نہ ہی بحالی ہوسکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں