عدالت کا سائفر کیس کے دوبارہ جیل ٹرائل کا فیصلہ

اسلام آباد : آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے سائفر کیس کے دوبارہ جیل ٹرائل کا فیصلہ کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق خصوصی عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی پیشی سے متعلق محفوظ فیصلہ سنادیا، جس میں کہا گیا ہے کہ سائفر کیس کے دوبارہ جیل ٹرائل کا فیصلہ کیا ہے، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی سکیورٹی رپورٹ کی روشنی میں سائفر کیس کا ٹرائل جیل میں ہی ہوگا، عوام اور میڈیا کو جیل سماعت میں موجود ہونے کی اجازت ہو گی، کیس کی سماعت سننے کے خواہشمندوں کو روکا نہیں جائے گا، میڈیا کو بھی سائفر کیس کی سماعت سننے کی اجازت ہوگی۔
بتایا جارہا ہے کہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ خصوصی عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے سائفر کیس کی سماعت کی، چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر، ایف آئی اے پراسیکوٹر شاہ خاور اور ذوالفقار عباس عدالت میں پیش ہوئے، اس موقع پر اڈیالہ جیل سپرنٹنڈنٹ نے سابق وزیراعظم کو پیش کرنے سے معذرت کرتے ہوئےعدالت کو تحریری طور پر آگاہ کر دیا، ایف آئی اے پراسیکوٹر شاہ خاور نے جیل سپرنٹنڈنٹ کا لیٹر پڑھ کر سنایا، جیل حکام نےعدالت میں رپورٹ پیش کی اور بتایا کہ عمران خان کو پیش نہیں کرسکتے، اسلام آباد پولیس کو اضافی سکیورٹی کے لیے خط لکھا اور بتایا کہ عمران خان کو سیکیورٹی خدشات ہیں۔
دوران سماعت عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے مؤقف اپنایا کہ آج دو مختلف معاملات عدالت میں ہیں، امید تھی چیئرمین پی ٹی آئی کو پیش کریں گے لیکن ایسا نہیں کیا گیا، کوئی بھی ملزم ہے اس کو پیش کرنا جیل انتظامیہ کی ذمہ داری ہے، جیل سماعت کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے کالعدم قرار دیا ہے، ہم کہتے رہے ان حالات میں ٹرائل نہ کریں، ہم یہ استدعا بھی کرتے رہے پہلے ٹرائل کہاں کرنا ہے اس کو طے کرلیں، ہم جب بھی کچھ کہتے تھے بولا جاتا تھا کوئی اسٹے آرڈر ہے تو بتا دیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں