سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے نائب صدر محمد مخبر دیزفولی کو حکومت کا نیا سربراہ مقرر کردیا

تہران: ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاکت کے بعد سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے نائب صدر اول محمد مخبر دیزفولی کو حکومت کا نیا سربراہ مقرر کردیا ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کو لے جانے والا ہیلی کاپٹر 19 مئی کو آذربائیجان کی سرحد پر ڈیم کی افتتاحی تقریب سے واپس آتے ہوئے موسم کی خرابی کے باعث گر کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں ایرانی صدر، وزیر خارجہ حسین امیر عبد اللہیان و دیگر حکام جاں بحق ہوگئے. صدر رئیسی کی حادثے میں ہلاکت کا اعلان مشہد میں حضرت امام علی رضا علیہ اسلام کے روضہ اقدس پر کیا گیا‘ایران کی روایات کے مطابق سربراہ مملکت کی نمازہ جنازہ مشہد میں نواسہ رسول ﷺ امام علی رضا کے روضہ مبارک پر اداکی جائے گی جس کے بعد تہران میں دوبارہ ان کی نمازجنازہ اداکی جائے گی اور ممکنہ طور پر انہیں مشہد میں سپرد خاک کیا جائے گا. صدرابراہیم رئیسی کے اسلامی جمہوریہ ایران میں طاقت کے سر چشمے کے بہت قریب تھے اور ان کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ وہ آیت اللہ خامنہ ای کے اگلے جانشین اورایران کے رہبر اعلی ہوں گے‘ایران کے قائمقام صدر محمد مخبر دیزفولی 1955 میں پیدا ہونے انہیں صدر ابراہیم رئیسی نے اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد اگست 2021 میں اپنا پہلا نائب صدر مقرر کیا تھا محمد مخبر ایرانی حکام کی اس ٹیم کا حصہ تھے جس نے اکتوبر2023 میں ماسکو کا دورہ کیا تھا اور روس کی فوج کو میزائل اور مزید ڈرون فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی اس ٹیم میں ایران کے پاسداران انقلاب کے دو سینئر اہلکار اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ایک اہلکار بھی شامل تھے ۔
اس سے قبل محمد مخبر دیزفولی سپریم لیڈر سے وابستہ سرمایہ کاری فنڈ ”سیتاد “کے سربراہ رہ چکے ہیں، اس کے علاوہ وہ ”سینا بینک“ کے بورڈ چیئرمین اور صوبہ خوزستان کے ڈپٹی گورنر ہیں 2013 میں امریکی محکمہ خزانہ نے” سیتاد“ اور اس کے زیر انتظام 37 کمپنیوں کو پابندی کی فہرست میں شامل کیا تھا قائمقام ایرانی صدر کے پاس دو ڈاکٹریٹ ڈگریاں ہیں جن میں بین الاقوامی حقوق میں ڈاکٹریٹ کا تعلیمی مقالہ بھی شامل ہے انہوں نے مینجمنٹ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی حاصل کی ہے وہ 15 سال تک ایران کے بڑے ترین اقتصادی گروپوں میں سے ایک”ستاد اجرائی فرمان امام“ کے ایگزیکٹو سٹاف کے سربراہ تھے یہ گروپ براہ راست اسلامی جمہوریہ کے رہبرِ اعلیٰ کی نگرانی میں کام کرتا ہے اور کسی بھی ادارے کو جوابدہ نہیں ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں