وفاقی وزیر سے مشاورت کے بغیر ترقیاتی بجٹ منظور ہونے کا انکشاف

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے ترقی و منصوبہ بندی احسن اقبال سے مشاورت کے بغیر ہی ترقیاتی بجٹ منظور کیے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس پر انہوں نے ناصرف ترقیاتی بجٹ اس کے ساتھ سالانہ پلان کی منظوری سے پہلے مشاورت نہ کیے جانے پر تحفظات کا اظہار کردیا، ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن جہانزیب خان کی جانب سے اے پی سی سی کے لیے بھی وفاقی وزیر کو اعتماد میں نہ لینے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، پی ایس ڈی پی اور سالانہ پلان کی وزیراعظم کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل سے منظوری لی جائے گی۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ 31 مئی کو سالانہ پلان کوآرڈی نیشن کمیٹی کے اجلاس میں 1 ہزار 221 ارب روپے کے پی ایس ڈی پی کی منظوری دی گئی، رواں سال 2 اعشاریہ 4 فیصد جی ڈی پی گروتھ اور اگلے سال کیلئے 3 اعشاریہ 6 فیصد کے ہدف پر بھی وفاقی وزیرت احسن اقبال سے مشاورت نہیں کی گئی حالاں کہ قانون کے تحت بجٹ یا پالیسی سازی کیلئے وفاقی وزیر کی منظوری ضروری ہے، اس لیے سالانہ پلان کوآرڈی نیشن کمیٹی کا اجلاس دوبارہ طلب کیا جاسکتا ہے۔
بتایا جارہا ہے کہ وزارت منصوبہ بندی نے وفاقی ترقیاتی بجٹ کی مد میں 1221 ارب مختص کرنے کی عبوری منظوری دیدی ہے،پی ایس ڈی پی میں مالی مشکلات کے باعث اہم قومی نوعیت کے منصوبوں کو ترجیح دی گئی ہے، پی ایس ڈی پی، ایس آئی ایف سی اور قومی اقتصادی کونسل کی سفارشات اور ہدایات کی روشنی میں تیار کیا گیا ہے، توانائی کیلئے 378 ارب، ٹرانسپورٹ اینڈ کمیونیکیشن کیلئے 173 ارب، فزیکل پلاننگ اینڈ ہاوسنگ کیلئے 42 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں