عمران خان، شاہ محمود قریشی و دیگر آزادی مارچ اور توڑ پھوڑ کے 2 کیسز میں بری

اسلام آباد : پاکستان تحریک انصاف کے قائد عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو آزادی مارچ اور توڑ پھوڑ کے دو کیسز میں بڑا ریلیف مل گیا۔ تفصیلات کے مطابق آزادی مارچ، دفعہ 144 کی خلاف ورزی اور توڑ پھوڑ کیسز میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی، اسد عمر، علی محمد خان ، مراد سعید کو سیشن عدالت نے بری کردیا، اس حوالے سے جوڈیشل مجسٹریٹ احتشام عالم نے بریت کی درخواستوں پر فیصلہ سنایا۔
اس کے علاوہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں تھانہ شہزاد ٹاؤن میں درج نو مئی کے مقدمات میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بریت کے معاملے پر جوڈیشل مجسٹریٹ عمر شبیر نے سابق وزیراعظمکی بریت کی درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سنا دیا، اپنے فیصلے میں عدالت نے ناکافی شواہد کی بنیاد پر بانی پی ٹی آئی کو تھانہ شہزاد ٹاؤن کے دونوں مقدمات سے بری کر دیا، اس کیس میں وکلاء مرزا عاصم بیگ اور نعیم پنجوتھہ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بریت پر دلائل دیئے تھے، جن مین وکلاء کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ غیر مجاز شخص کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کے خلاف ایف آئی درج کروائی گئیں تھیں، وکیل مرزا عاصم بیگ بانی پی ٹی آئی پر 109 کا الزام عائد کیا گیا مگر کوئی شواہد پیش نہیں کیے جاسکے۔
اس سے پہلے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے لانگ مارچ کے دوران توڑپھوڑ کے 2 کیسز میں بانی تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی بریت کی درخواست منظور کرلی تھی، عمران خان کی لانگ مارچ کے دوران توڑپھوڑ کے 2 مقدمات میں عدالت پیشی اور بریت کی درخواست پر جوڈیشل مجسٹریٹ شائستہ کنڈی نے سماعت کی جہاں عمران خان کے وکلا نعیم حیدر پنجوتھا، سردار مصروف اور آمنہ علی عدالت میں پیش ہوئے، دورانِ سماعت نعیم حیدر پنجوتھا نے استدعا کی کہ عمران خان کو عدالت طلب کیا جائے۔
جوڈیشل مجسٹریٹ شائستہ کنڈی نے ریمارکس دیے کہ ’پہلے عمران خان کی درخواست بریت پر بحث کرلیں، اگر عمران خان کو عدالت لاتے ہوئے راستے میں کچھ ہوگیا تو کون ذمہ دار ہوگا؟‘ نعیم پنجوتھا نے کہا کہ ’عمران خان اس سے قبل بھی خود سے عدالتوں میں پیش ہوتے رہے ہیں، زمان پارک آپریشن کیا گیا، وارنٹ نکالے گئے، حکومت کا کام سیکیورٹی مہیا کرنا ہے، عمران خان کی موجودگی میں دلائل دینا چاہتے ہیں‘، عدالت نے عمران خان کی عدالت پروڈکشن کی درخواست مسترد کردی، جج شائستہ کنڈی نے ریمارکس دیے کہ ’ضمانت پر حاضری ضروری ہوتی ہے، بریت پر سماعت کے لیے پروڈکشن آرڈر ضروری نہیں‘۔
عمران خان کی درخواستِ بریت پر وکیل نعیم پنجوتھا نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’عمران خان پر تمام مقدمات میں صرف ایما کی حد تک ہیں، ایک ہی دن میں متعدد مقدمات درج ہوئے، عمران خان کا ایک ہی طرح کا کردار رکھا، دفعہ 144 کے نفاذ کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا اور نہ بتایا گیا، مدعی ایس ایچ او ہے جس کو مقدمہ درج کرنے کا اختیار نہیں، عمران خان پر درج مقدمات میں گواہان کے بیانات بھی نہیں‘۔

اپنا تبصرہ بھیجیں