سوشل میڈیا کنٹرول کرنے کیلئے فائر وال کی تنصیب کا فیصلہ

اسلام آباد: حکومت نے ملک میں سوشل میڈیا کنٹرول کرنے کیلئے فائر وال کی تنصیب کا فیصلہ کرلیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا پر لگام ڈالنے کے لیے فائر وال کی تنصیب کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس سلسلے میں حکومت پاکستان نے انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو بھی راضی کرلیا ہے، تاہم پی ٹی اے نے فائر وال کی تنصیب کے حوالے سے مؤقف دینے سے گریز کیا ہے۔
ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ فائر وال خصوصی فیچر ڈیپ پیکٹ انسپکشن کی صلاحیت کی حامل ہوگی، ڈیپ پیکٹ انسپکشن سے سوشل میڈیا ڈیٹا کو فلٹر کیا جاسکے گا، فائر وال اپلیکیشن کی بجائے آئی پی لیول پر ڈیٹا بلاک کرسکے گی، ڈیپ پیکٹ انسپکشن سے ڈیٹا کو لیئر 7 تک دیکھا جاسکے گا، فائر وال سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ پوائنٹس کی نشاندہی کرسکے گی، اس کے ساتھ ہی فائر وال پروپیگنڈہ پوائنٹس اور آئی ڈیزکو بلاک کرنے کی صلاحیت بھی رکھے گی۔
ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ فائر وال کی تنصیب کیلئے یوز کیسز کا تبادلہ بھی کرلیا گیا، انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں پر فائر وال نصب ہوگی، فائر وال کی تنصیب کی کچھ قیمت حکومت پاکستان ادا کرے گی، فائروال کی باقی قیمت انٹرنیت سروس فراہم کرنے والی والی کمپنیاں ادا کریں گی، پی ٹی اے نے انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو راضی کرلیا ہے، انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیاں غیرقانونی مواد روکنے کی پابند ہیں، فائر وال کی تنصیب پی ٹی اے کا دائرہ اختیار ہے۔
بتایا جارہا ہے کہ فائر وال سسٹم بنیادی طور پر انٹرنیٹ گیٹ ویز پر لگایا جاتا ہے جہاں سے انٹرنیٹ اپ لنک اور ڈاؤن لنک ہوتا ہے، اس کا مقصد انٹرنیٹ ٹریفک کو فلٹر کرنا ہوتا ہے، اس فائر وال کی مدد سے ناپسندیدہ ویب سائٹس، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور مخصوص مواد کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے، ایسے کسی بھی مواد کو فائر وال کی مدد سے بلاک کیا جاسکتا ہے، اس نظام کی مدد سے کسی مواد کے اوریجن یعنی جہاں سے اس کا آغاز ہوا ہو اس بارے میں بھی فوری مدد مل سکتی ہے اور آئی پی ایڈریس سامنے آنے کے بعد مواد کو بنانے والے کے خلاف کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں