تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس میں مزید ریلیف دینے کیلئے کوشش کریں گے

اسلام آباد: وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس میں مزید ریلیف دینے کیلئے کوشش کریں گے، تنخواہ دار طبقے پرمزید ٹیکس لگانا روایت رہی ہے، بجٹ میں 6لاکھ کیلئے ٹیکس کو برقرار رکھا گیا، ہم نے 9.4 ٹریلین سے12.9 ٹریلین ریونیواکٹھا کرنے پر جانا ہے۔

انہوں نے جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں کچھ بنیادی اصول بنائے ہیں ، معیشت کو استحکام کی طرف لے کر جانا ہے، ساڑھے 9 فیصد ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح سے پاکستان آگے نہیں چل سکتا، بتدریج ہم اس نے کو بڑھانا ہے، تاکہ اگلے تین سالوں میں 13فیصد پر لے جائیں، ریونیو کو دیکھا جائے تو سب اخبارات لکھ رہے تھے کہ 3.9 ٹریلین کی استثنا دیتے ہیں پھر کیسے ملک متحمل ہوسکتا ہے؟ ہم نے کچھ استثنا کو کم کیا ہے، پیسٹی سائیڈز، کھاد ، بیجوں پر سیلز ٹیکس نہ لگے، یہ بھی بات ہوئی کہ ری ٹیلرز کو کیوں ٹیکس سے باہر رکھا ہے؟اس پر بتانا چاہتا ہوں کہ اس وقت تک 33 ہزار لوگ رجسٹرڈ ہوچکے ہیں جولائی سے ان پر ٹیکس کا اطلاق ہوجائے گا۔
میں سمجھتا ہو ں کہ وہ محکمے یا وزارتیں جو وفاق میں نہیں ہونے چاہئیں تھے، وزیراعظم نے کمیٹی بنادی ہے اگلے دو مہینوں میں اس کو کریں گے۔ پی آئی اے کو 10سال پہلے نجکاری ہونی چاہیے تھی تاکہ ساڑھے 600بلین کا حکومت نے جو بوجھ لیا ہے، وہ نہ لیتے۔ وزیرخزانہ نے کہا کہ خواجہ آصف نے جو کہااس پر بتانا چاہتا ہوں کہ ری ٹیلرزکتنا ٹیکس دے رہے ہیں ،ان کی کتنی تعداد ہے، 2022میں جب مفتاح اسماعیل نے ری ٹیلرز پر ٹیکس لگانے کی بات کی تھی اس وقت ٹیکس لگ جانا چاہیئے تھا، چلیں اب دو سال تاخیر سہی ہم ان کی رجسٹریشن کی طرف گئے ہیں، ٹیکس کا اطلاق ان پر ڈائریکٹ ٹیکس لگائے جارہے ہیں، ہر کسی کو اپنا ٹیکس دینا ہوگا، ری ٹیلرز پربراہ راست ٹیکس عائدکردیاجولائی سے اطلاق ہوجائے گا۔
پاکستان دنیا میں واحد ملک ہے جہاں نان فائلر کی کیٹیگری ہے، نان فائلر کے ریٹس اس لیول تک لے گئے ہیں کہ نان فائلر دو تین چار بار ضرور سوچیں گے کہ مجھے دو تین فیصد کا فرق نہیں بلکہ 45 فیصد تک دینا ہے تو پھر وہ ٹیکس نیٹ میں آنا شروع ہوں گے۔ اب جب موبائل سمز بند کیں تو شو ر اٹھا، 7ہزار سے زائد سمز ری ایکٹو کردی گئیں کیونکہ انہوں نے اپنا ٹیکس ادا کردیا ہے۔
تنخواہ دار طبقہ آسان ہدف ہے ان سے مزید ٹیکس لگاناروایت رہی ہے، ہم نے بہت کوشش کی کہ جب ہم نے 9.4 ٹریلین سے12.9 ٹریلین ریونیو پر جانا ہے، یہ کوئی 3.5 ٹریلین اضافہ ریونیو اکٹھا کیا جائے گا، تنخواہ دار طبقہ 6 لاکھ کیلئے ٹیکس کو برقرار رکھا گیا، 35 فیصد والے کو بھی تحفظ دیا گیا، تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس میں مزید ریلیف دینے کیلئے نظرثانی کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں