اسلام آباد : امریکہ اور اسرائیل کی ایران کےخلاف جاری جنگ میں سیزفائر کوششوں میں پیشرفت کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کا باعث بننے والی جنگ روکنے کیلئے پاکستان کی کوششیں نازک اور حساس مرحلے میں داخل ہوچکی ہیں، جس کی تصدیق پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم کی جانب سے کی گئی، اس حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پیغام میں انہوں نے لکھا کہ جنگ کو روکنے کے لیے پاکستان کی گڈ ول اور گڈ آفس میں مثبت اور نتیجہ خیز کوششیں ایک نازک اور حساس مرحلے کے قریب پہنچ رہی ہیں، اس سلسلے میں مزید کسی پیشرفت کا انتظار کریں۔
اس حوالے سے گزشتہ روز عالمی نیوز ایجنسی رائٹرز نے رپورٹ کیا تھا کہ ایران اور امریکہ کو جنگ ختم کرنے کا ایک منصوبہ موصول ہوا ہے جو پیر سے نافذ العمل ہو سکتا ہے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول سکتا ہے، اس سلسلے میں باخبر ایک ذریعے نے بتایا کہ پاکستان کی طرف سے مشرق وسطیٰ کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے ایک فریم ورک تیار کیا گیا جس کا راتوں رات ایران اور امریکہ کے ساتھ تبادلہ ہوا، جس میں فوری جنگ بندی کے ساتھ دو سطحی نقطہ نظر کا خاکہ پیش کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں ایک جامع معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ تمام فریقین کے درمیان ممکنہ طور پر آج اتفاق ہوسکتا ہے، ابتدائی مفاہمت کو ایک یادداشت کے طور پر تشکیل دیا جائے گا جسے پاکستان کے ذریعے الیکٹرانک طور پر حتمی شکل دی جائے گی جو بات چیت میں واحد مواصلاتی چینل ہے، امریکہ، ایران اور علاقائی ثالث دو مرحلوں پر مشتمل معاہدے کے ایک حصے کے طور پر 45 دن کی ممکنہ جنگ بندی پر بات کر رہے ہیں جو جنگ کے مستقل خاتمے کا باعث بن سکتا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ اس سلسلے میں پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر رات بھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ رابطے میں رہے، اس دوران پیش کی جانے والی تجاویز کے تحت جنگ بندی فوری طور پر نافذ العمل ہوگی، جس سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جائے گا، وسیع تر تصفیے کو حتمی شکل دینے کے لیے 15 سے 20 دن ہوں گے، اس منصوبے کو عارضی طور پر “اسلام آباد ایکارڈ” کا نام دیا گیا ہے، جس میں آبنائے ہرمز کے لیے ایک علاقائی فریم ورک شامل ہوگا، اس ضمن میں اسلام آباد میں فریقین کی آمنے سامنے حتمی بات چیت ہوگی۔




