سولر سسٹم میں استعمال ہونے والے گرین میٹرز پر پابندی عائد

لاہور: لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی ( لیسکو ) نے سولر سسٹم میں استعمال ہونے والے گرین میٹرز پر پابندی عائد کر دی، گرین میٹرز کی جگہ اے ایم آئی میٹرز لگانے کے احکامات جاری، ڈائریکٹر کسٹمر سروسز نے گرین میٹر پر پابندی لگانے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق لیسکو کی جانب سے سولرکنکشن کیلئے اے ایم آئی میٹرز کی خریداری کا این او سی دیاجائے گا،این او سی کی بنیاد پر صارفین مارکیٹ سے میٹرز کی خریداری کریں گے۔
اے ایم آئی میٹرز کی خریداری سے صارفین پرتقریباً 20ہزارروپے کااضافی بوجھ پڑے گا۔اے ایم آئی میٹرز نصب ہونے سے اووربلنگ اور بجلی چوری میں کمی ہو گی۔خیال رہے کہ اس سے قبل لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) نے بجلی کے نئے کنکشن کی فیس میں اضافہ کر دیا تھا۔
تھری فیز میٹر کی ڈیمانڈ نوٹس فیس 33500 روپے سے بڑھا کر 63,450 روپے کر دی گئی تھی۔نئے کنکشن کی فیسوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیاگیاتھا۔

جبکہ نئی فیسوں کا اطلاق یکم جولائی سے ہوگا۔تفصیلات کے مطابق لیسکو نے تھری فیز میٹرز کے ڈیمانڈ نوٹس کی فیس سال میں دوسری بار بڑھا دی گئی تھی۔5 کلو واٹ لوڈ پر کنکشن کے حصول کیلئے فیس 69ہزار 500 روپے مقرر کی گئی تھی ایک سال کے دوران مجموعی طور پر 50 ہزار روپے تک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیاتھا۔ رواں سال ڈیمانڈ نوٹس کی قیمت 22 ہزار روپے سے بڑھا کر 69 ہزار 500 روپے تک بڑھائی گئی،لیسکو نے تھری فیز میٹر کو اے ایم آئی میٹرز سے تبدیل کرنے کی بنیاد پر قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔
یکم جولائی سے اضافی قیمت پر ڈیمانڈ نوٹسز کا اجراءکیا جائے گا ۔یاد رہے کہ اس سے قبل لیسکو نے بجلی صارفین کوبل تاخیر سے ادائیگی کرنے پر قانون کے تحت 14 فیصد سود ادا کرنے کا فیصلہ کیاتھا۔اس حوالے سے نیپرا نے اپنے نوٹی فکیشن میں کہا تھاکہ نیپرا نے کہا کہ اگر کوئی صارف رواں ماہ کے بل کی قسط کی درخواست کرتا ہے تو مقررہ تاریخ کے اندر پہلی قسط ادا کرنے پر کوئی سود یا تاخیر سے ادائیگی پر جرمانہ نہیں ہوگاتاہم باقی اقساط پر 14 فیصد شرح سود سالانہ ادا کرنا ہوگا، اور قسطوں کی سہولت کی اجازت مالی سال میں صرف ایک بار ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں