برطانیہ کے عام انتخابات میں لیبر پارٹی کی سر کیر سٹارمرکی قیادت میں 410نشستوں کے ساتھ فتح

لندن: برطانیہ کے عام انتخابات میں لیبر پارٹی نے سر کیر سٹارمرکی قیادت میں بھاری اکثریت سے فتح حاصل کرلی ہے جبکہ مدمقابل رشی شونک کی پارٹی کنزویٹو صرف136نشستیں حاصل کرسکی‘برطانیہ کے 650نشستوں پر مشتمل ایوان نمائندگان کی بیشترنشستوں کے نتائج آچکے ہیں جن کے مطابق لیبرپارٹی کو دوسری جماعتوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ410نشستیں ملی ہیں انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد وزیراعظم رشی سونک نے اپنی شکست تسلیم کرلی ہے یوں 14سال کے بعد لیبرپارٹی کا اقتدار ختم ہوگیا ہے.
لیبر پارٹی حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ 326 نشستیں حاصل کرنے کے بعد باضابطہ طور پر برطانیہ کے عام انتخابات میں کامیاب ہو گئی ہے روایت کے مطابق آج وزیراعظم رشی سونک بادشاہ چارلس سے ملاقات کرکے انہیں اپنا استعفی پیش کریں گے اس کے بعد فاتح سرکیرسٹارمربادشادہ سے ملاقات کرکے ان سے حکومت سازی کے لیے اجازت لیں گے برطانوی ذرائع ابلاغ کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ رشی سونک کو وزارت عظمی کے ساتھ اپنے پارٹی عہدے سے بھی ہاتھ دھونا پڑسکتا ہے.
وسطی لندن میں خطاب کرتے ہوئے برطانیہ کے اگلے وزیر اعظم سر کیئر سٹارمر نے کہا کہ تبدیلی کا آغاز ہو رہا ہے‘انہوں نے کہاکہ سچ بولوں تو مجھے بہت اچھا لگ رہا ہے اس سے قبل اپنے حلقے میں جیت کے بعد تقریر کرتے ہوئے سر کیر سٹارمر نے کہا کہ یہ ہمارے لیے کارکردگی دکھانے کا وقت ہے. دوسری جانب برطانوی وزیر اعظم رشی سونک نے عام انتخابات میں شکست قبول کرلی ہے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ لیبر پارٹی یہ عام انتخابات جیت چکی ہے اور میں نے سر کیر سٹارمر کو فون کر کے مبارک باد دے دی ہے انہوں نے کہاکہ میں اس شکست کی ذمہ داری قبول کرتا ہوںایگزٹ پول کے مطابق کنزرویٹو پارٹی کو صرف 136 نشستیں ملنے کی توقع ہے اور یہ تاریخی طور پر ان کی عام انتخابات میں اب تک کی بدترین شکست ہے سکاٹش نیشنل پارٹی کے رہنما سٹیفن فلن نے انتخابات کے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی پارٹی کو سٹارمر سونامی بہا لے گیا ہے.
انہوں کہا کہ ہمارے ساتھی پورے سکاٹ لینڈ میں اپنی نشستیں ہار رہے ہیں تاہم سٹیفن فلن 15 ہزار 213 ووٹوں کے ساتھ اپنی نشست جیتنے میں کامیاب رہے ہیں ان کے مخالف امیدوار نے 11 ہزار 455 ووٹ حاصل کیے . انتخابات میں کنزویٹوپارٹی کے دوسرے نمبر پر آنے کے بعد لبرل ڈیموکریٹس کا 56 ارکان کے ساتھ تیسرے نمبر پر آنے کا امکان ہے جبکہ سکاٹش نیشنل پارٹی‘ ریفارم یو کے پارٹی سمیت دیگر جماعتوں کی نشستوں میں بھی کمی آئی ہے یارہے کہ 2019 میں بورس جانسن کی قیادت میں کنزرویٹو پارٹی کو 80 سیٹوں کی برتری حاصل ہوئی تھی برطانوی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ کنزرویٹو پارٹی کی شکست میں لبرل ڈیموکریٹس اور ریفارم یو کے پارٹی نے بھی اہم کردار اداکیا ہے .

اپنا تبصرہ بھیجیں