لاہور الیکشن کمیشن نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا اعلان کر دیا، الیکشن کمیشن نے اس سلسلے میں اپنا محفوظ شدہ فیصلہ جاری کرتے ہوئے صوبے میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار کروانے کا حکم دیا ہے، جس کے تحت پہلے مرحلے کی پولنگ آئندہ سال 7 فروری کو منعقد ہوگی۔
اطلاعات کے مطابق چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں 4 رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی، اس موقع پر وزیرِ بلدیات پنجاب ذیشان رفیق، چیف سیکرٹری پنجاب اور سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کمیشن بھی عدالت میں پیش ہوئے، دورانِ سماعت چیف الیکشن کمشنر نے بتایا کہ صوبے میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق پنجاب کی کابینہ کمیٹی اور الیکشن کمیشن کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں پنجاب حکومت کی جانب سے 15 دسمبر سے 15 جنوری کے دوران انتخابات کرانے کی تجویز دی گئی تھی۔
چیف سیکرٹری پنجاب نے عدالت کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پنجاب حکومت بلدیاتی انتخابات کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، تاہم انتظامی اور موسمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے درخواست کی گئی ہے کہ انتخابات کے لیے 20 جنوری کے بعد کی کوئی تاریخ دی جائے کیوں کہ پنجاب اور بالخصوص لاہور میں دسمبر کے مہینے میں شدید دھند پڑتی ہے، جس سے انتخابی عمل اور سٹاف کے انتظامات کے لیے شدید مشکلات پیدا ہوتی ہیں جب کہ جنوری کے بعد موسم قدرے بہتر ہو جاتا ہے۔
الیکشن کمیشن میں سماعت کے دوران اپنا مؤقف بیان کرتے ہوئے چیف سیکرٹری پنجاب کا مزید کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کو بلدیاتی انتخابات کے لیے شروع میں آئندہ برس اپریل کا مہینہ زیادہ موزوں لگا تھا کیونکہ اس دوران صوبے میں اسکولوں کی تعطیلات ہوتی ہیں، دن بڑا ہوتا ہے اور ووٹرز کو پولنگ اسٹیشنز تک آنے میں آسانی رہتی ہے، تاہم اب وہ جنوری یا فروری میں انتخاب پر بھی آمادہ ہیں۔
چیف الیکشن کمشنر نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد کہا کہ 20 جنوری کے بعد کی تاریخ کی درخواست پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا جس کے بعد تاریخ کا باضابطہ اعلان کر دیا جائے گا، سماعت کے دوران چیف الیکشن کمشنر نے دلچسپ مکالمہ کرتے ہوئے چیف سیکرٹری سے کہا کہ ’بسنت تو ویسے آپ منا رہے ہیں‘، فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد الیکشن کمیشن نے اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جو اب جاری کر دیا گیا ہے، جس کے مطابق پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کی پولنگ 7 فروری کو ہوگی۔




