پشاور : پاکستان تحریک انصاف کے رکن سہیل آفریدی 90 ووٹ لے کر وزیر اعلی خیبرپختونخوا منتخب ہوگئے، وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے 73 ووٹ درکار تھے۔ تفصیلات کے مطابق نئے قائدِ ایوان کے انتخاب کیلئے خیبرپختونخواہ اسمبلی کا اجلاس ہوا، جس کی صدارت سپیکر بابر سلیم سواتی نے کی، صوبائی اسمبلی کے اجلاس کے دوران علی امین گنڈاپور نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جس دن عمران خان نے حکم دیا اسی دن استعفیٰ دے دیا تھا، اگر کوئی شک ہے تو میں پھر فخر کے ساتھ اعلان کر رہا ہوں کہ اللہ نے مجھے یہ موقع دیا، مجھ پر یہ وقت آیا کہ جہاں ثابت ہونا تھا کہ کُرسی بڑی ہے یا اپنے لیڈر کا حکم، اللہ نے مجھے کامیاب کیا، وفاداری اور عزت ہمیں اسلام اور آباؤ و اجداد نے بتائی ہے، میری کارگردگی اچھی تھی یا بری سب کے سامنے ہے۔
انہوں نے کہا کہ جس جنگ کے لئے ہمارا لیڈر قربانی دے رہا ہے، ہم مل کر اِس جنگ کو لڑیں گے اور کامیاب ہوں گے کیوں کہ یہاں جمہوریت کے ساتھ مذاق ہوتا آرہا ہے، ہماری پارٹی، ہماری مرضی، ہمارا فیصلہ، ہماری مرضی، ہماری اکثریت، ہماری مرضی اور سب سے بڑھ کر ہمارا لیڈر اور اُس کی مرضی، نئے وزیراعلیٰ کے عمل میں تاخیری حربے استعمال نہ کریں، ہم مزید کچھ برداشت نہیں کریں گے۔
اس پر سپیکر خیبرپختونخواہ اسمبلی بابر سلیم سواتی نے علی امین گنڈاپور کے استعفیٰ کو آئینی قرار دیتے ہوئے اس کی توثیق کردی اور رولنگ دی کہ تمام معاملات آئین کے مطابق ہوئے ہیں، وزیراعلی کے انتخاب کا جو طریقہ اختیار کیا وہ عین آئین کے مطابق ہے، اِس ملک میں چند لوگوں کی خواہش ہے کہ سُہیل آفریدی وزیراعلیٰ نہ بنیں لیکن آئین لوگوں کی خواہشات پر نہیں چل سکتا۔
سہیل آفریدی 90 ووٹ لے کر وزیر اعلیٰ خیبرپختونخواہ منتخب




