شفقت اللہ مشتاق۔ ایک تعیناتی نہیں، ایک عہد کا خاتمہ

دیکھنے کی دوسری آنکھ / عبدالجبار بھٹی (ایم ایس سی ابلاغیات)

راجن پور کی فضا آج بدلتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ دفتر کی راہداریوں سے لے کر دور افتادہ بستیوں تک ایک بات آہستگی سے گردش کر رہی ہے کہ ڈپٹی کمشنر شفقت اللہ مشتاق کا تبادلہ ہو گیا ہے۔ یہ خبر ایک عام سرکاری نوٹیفکیشن نہیں بلکہ اس ضلع کے لوگوں کے دلوں میں ہلچل پیدا کرنے والی خبر ہے۔ کیونکہ یہاں ایک افسر نہیں جا رہا، ایک دور ختم ہو رہا ہے۔
میں نے خوش قسمتی سے تقریباً ایک ہفتہ ان کے ساتھ گزارا اور اس دوران ہم (میں نے چیئرپرسن وزیراعلی پنجاب انسپکشن، سرویلنس و مانیٹرنگ ڈائریکٹوریٹ بریگیڈیئر بابر علاؤالدین ستارہ امتیاز ملٹری (ر) کے ہمراہ) نے راجن پور کے ہر کونے کا دورہ کیا۔ ہم کچے کے علاقوں میں گئے، ہر تحصیل کا معائنہ کیا اور حتیٰ کہ روجھان میں ایک کھلی کچہری بھی منعقد کی۔ یہ تجربہ نہ صرف ان کے عزم کو قریب سے دیکھنے کا موقع تھا بلکہ ان کی شخصیت کے تضاد کو بھی محسوس کرنے کا موقع ملا۔ وہ کبھی انتہائی عاجز اور انسان دوست نظر آتے، اور کسی عوامی مسئلے کی بات آتے ہی وہ انتہائی سخت اور فوری کارروائی کے قائل ہو جاتے۔ ان کے فیصلے ہمیشہ عوام کے حق میں ہوتے اور عمل میں تیز رفتار۔
شفقت اللہ مشتاق ایسے انسان ہیں جو صرف موجود نہیں ہوتے، بلکہ اپنے اثرات دلوں میں چھوڑ جاتے ہیں۔ ان کے ساتھ وقت گزارنا ایسا تھا جیسے خوشبو آپ کے اردگرد پھیلی ہو، جو ہر لمحہ یاد دلاتی ہے کہ خدمت کا اصل مطلب کیا ہوتا ہے۔ وہ افسر نہیں، ایک روشنی ہیں جو ہر قدم پر رہنمائی کرتی ہے۔
شفقت اللہ مشتاق ان افسروں میں سے تھے جنہیں کسی عہدے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ وہ جہاں بھی کھڑے تھے، وہی جگہ باوقار ہو جاتی تھی۔ وہ جس کرسی پر بیٹھے، اس نے خدمت کا رنگ اختیار کر لیا۔ ان کے جانے پر جو خلاء پیدا ہوا ہے، اسے لفظوں میں بیان کرنا آسان نہیں کیونکہ راجن پور نے انہیں صرف ایک افسر کے طور پر نہیں دیکھا، بلکہ ایک رہنما، ایک مصلح اور ایک استاد کے طور پر پہچانا۔
اس ضلع کی حقیقت سب جانتے ہیں۔ محرومی، پس ماندگی، دوریاں اور وہ مسائل جو اکثر نقشوں میں بھی نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ ایسے علاقے میں کام کرنا خود ایک جدوجہد ہے، مگر یہاں خدمت کرنا ہمت، نیت اور ایک بڑی سوچ چاہتی ہے۔ شفقت اللہ مشتاق نے یہ تینوں چیزیں اپنی شخصیت میں سمیٹ رکھی تھیں۔
انہوں نے کبھی دفتر کو مرکزی جگہ نہیں بنایا۔ ان کا اصل دفتر وہ گلیاں تھیں جہاں بچے اسکول سے محروم تھے، وہ ہسپتال تھے جہاں ایک بیڈ بھی کم پڑ جاتا تھا، وہ سرکاری عمارتیں تھیں جو سالوں سے توجہ کی منتظر تھیں۔ ان کے دور میں راجن پور نے پہلی بار محسوس کیا کہ “اقتدار” اور “خدمت” ایک ساتھ چل سکتے ہیں۔ تعلیم پر ان کی توجہ نے نئے راستے کھولے۔ اسکولوں کی حالت بہتر ہوئی، نگرانی مضبوط ہوئی اور اساتذہ نے پہلی بار محسوس کیا کہ ان کے پیچھے ایک ایسا سربراہ کھڑا ہے جو تعلیم کو فائلوں کے ذریعے نہیں بلکہ عملی بنیادوں پر بہتر کرنا چاہتا ہے۔ صحت کے منصوبے، صفائی کی مہمات، چھوٹے مگر مؤثر ترقیاتی اقدامات، یہ سب ان کے اندازِ حکمرانی کی پہچان بنے۔ ان کے جانے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال گونج رہا ہے کہ ایسے لوگ کم کیوں ہوتے ہیں؟ شاید اس لیے کہ ان کی طرح خلوص رکھنے والے دل کم ملتے ہیں۔ وہ حکم دینے والے افسر نہیں تھے، وہ ساتھ چلنے والے رہنما تھے۔ ان کے ساتھ کام کرنے والے افسران، اہلکار اور عام شہری آج بھی اس بات کے گواہ ہیں کہ انہوں نے انصاف کو کبھی سمجھوتے کے قریب نہیں آنے دیا۔ وہ نرم گفتگو کرتے تھے، مگر اصولوں پر غیر متزلزل کھڑے رہتے تھے
شفقت اللہ مشتاق کے انتقالی آرڈر نے راجن پور میں ایک عجیب سی اداسی پیدا کی ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جو صرف اس وقت ہوتی ہے جب لوگ دل سے کسی شخصیت کو قبول کر لیں۔ ان کے جانے کے بعد راجن پور کے لوگ پہلے سے زیادہ جان گئے ہیں کہ اچھا افسر کسی عمارت یا فائل سے نہیں بنتا، وہ دلوں میں جگہ بنا کر جاتا ہے۔
آخر میں ایک بات واضح ہے۔ تبادلے نوکری کا حصہ ہوتے ہیں، مگر کچھ تبادلے تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ شفقت اللہ مشتاق کا تبادلہ بھی اسی تاریخ کا حصہ ہے۔ وہ یہاں سے گئے ضرور ہیں مگر ان کے چھوڑے ہوئے نقش، اصلاحات اور یادیں اسی طرح قائم رہیں گی جیسے شام کے بعد بھی افق پر روشنی کی پتلی سی لکیر باقی رہتی ہے۔ راجن پور شاید اب وہ افسر دوبارہ نہ دیکھ سکے جو خدمت کو فرض نہیں بلکہ ایمان سمجھتا تھا، لیکن یہ یقین موجود ہے کہ جہاں بھی جائیں گے، وہاں بھی اسی روشنی کو آگے بڑھائیں گے۔ کیونکہ وہ افسر نہیں، ایک سفر ہیں۔ انسانیت کا سفر۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں