تحریر:ڈاکٹر اشرف چوہان
پاکستان سے ہنرمند افراد کی بیرونِ ملک ہجرت کو ایک بار پھر قومی بحران کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ حالیہ تبصروں میں 2025 کے دوران ڈاکٹروں، انجینئروں، اکاؤنٹنٹس اور دیگر پیشہ ور افراد کے ملک چھوڑنے کو تشویش ناک قرار دیا گیا ہے، اور یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اگرچہ ترسیلاتِ زر 38.5 ارب ڈالر کی تاریخی سطح تک پہنچ چکی ہیں، لیکن ملک اپنی صلاحیتوں سے خالی ہوتا جا رہا ہے۔ یہ تشخیص دراصل مسئلے کی علامات کو اصل وجوہات سمجھنے کی غلطی ہے۔
پاکستان کی آبادی 23 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے اور سماجی و ثقافتی عوامل کے باعث مسلسل بڑھ رہی ہے۔ تاہم معاشی ترقی، صنعتی وسعت اور روزگار کے مواقع اس رفتار سے پیدا نہیں ہو سکے۔ نتیجتاً مسئلہ افرادی قوت کی کمی نہیں بلکہ تعلیم یافتہ اور نیم تعلیم یافتہ افراد کی ایسی اضافی تعداد ہے جس کے لیے ملک میں مناسب مواقع موجود نہیں۔
تعلیمی نظام نے اس عدم توازن کو مزید بڑھایا ہے۔ سرکاری سرمایہ کاری کی کمی، اساتذہ کی کم تنخواہیں اور نجی اداروں کی بے لگام تعداد نے ایسے گریجویٹس پیدا کیے ہیں جو عملی مہارت کے بجائے محض نظری علم رکھتے ہیں۔ فنی، تکنیکی اور پیشہ ورانہ تربیت کمزور ہے۔ ڈگریاں تو بہت ہیں، مگر روزگار کی صلاحیت نہیں۔ ایسے حالات میں بیرونِ ملک جانے والوں کو “برین ڈرین” کہنا یہ فرض کر لیتا ہے کہ وہ پاکستان میں مؤثر طور پر استعمال ہو رہے تھے — جو اکثر درست نہیں۔
ایک اہم حقیقت جسے نظر انداز کیا جا رہا ہے، یہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار میڈیکل کالجوں کی نشستیں خالی رہ گئیں۔ یہ حقیقت اس دعوے کو کمزور کر دیتی ہے کہ ڈاکٹر ملک چھوڑنے سے اسپتال خالی ہو رہے ہیں۔ اصل مسئلہ ڈاکٹروں کی کمی نہیں بلکہ ناقص منصوبہ بندی، غیر منصفانہ تعیناتی، کم تنخواہیں، غیر محفوظ کام کا ماحول اور ترقی کے محدود مواقع ہیں۔ اصلاحات کے بغیر محض روک لینا مسئلے کا حل نہیں۔
پاکستان شدید معاشی دباؤ میں ہے۔ مستقل تجارتی خسارہ، بڑھتا ہوا بیرونی قرض اور جغرافیائی وجوہات کی بنا پر ناگزیر دفاعی اخراجات زرِ مبادلہ پر غیر معمولی دباؤ ڈالتے ہیں۔ ایندھن، ادویات، مشینری اور بنیادی اشیا کی درآمد کے لیے ڈالر ناگزیر ہیں۔ ایسے میں بیرونِ ملک روزگار اور ترسیلاتِ زر محض سہارا نہیں بلکہ معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔
یہ کہا جاتا ہے کہ ترسیلاتِ زر ہنرمند افراد کے جانے کا نعم البدل نہیں بن سکتیں۔ یہ دلیل ایک غلط دو رخی پیدا کرتی ہے۔ ہجرت اور ترقی ایک دوسرے کی ضد نہیں۔ ایشیا کے کئی ممالک نے اس مرحلے پر بیرونِ ملک روزگار کو دانستہ حکمتِ عملی کے طور پر اپنایا۔ پاکستان میں بھی یہ رجحان کسی نظریے کا نتیجہ نہیں بلکہ معاشی مجبوری ہے۔
اکثر پاکستانی مستقل طور پر ملک چھوڑنے کے ارادے سے نہیں جاتے۔ بیرونِ ملک جانا بہتر آمدن، پیشہ ورانہ نظم و ضبط، جدید نظاموں سے سیکھنے اور سماجی ترقی کا ذریعہ بنتا ہے۔ اس سے نہ صرف خاندانوں کا سہارا بنتا ہے بلکہ ایک طویل مدتی سرمایہ کاری کی بنیاد بھی پڑتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ بہت سے افراد 10، 20 یا 30 برس بعد واپس آتے ہیں — سرمایہ، تجربہ، عالمی روابط اور کاروباری اعتماد کے ساتھ۔ پاکستان کا نجی صحت کا شعبہ، رئیل اسٹیٹ، آئی ٹی اور فلاحی سرگرمیوں کا بڑا حصہ بیرونِ ملک کام کرنے والوں اور واپس آنے والوں کی مرہونِ منت ہے۔ علم کی منتقلی اب صرف جسمانی موجودگی کی محتاج نہیں رہی۔
اصل خطرہ لوگوں کے جانے میں نہیں بلکہ یہ سمجھنے میں ہے کہ بغیر مواقع اور عزت کے انہیں روک لینا ترقی ہے۔ جس ہنرمند کو کام کا موقع نہ ملے، وہ پہلے ہی ضائع ہو چکا ہوتا ہے۔ استعمال کے بغیر تحفظ جمود پیدا کرتا ہے۔
بحث کو جذباتی نعروں سے نکال کر عملی اصلاحات کی طرف لے جانا ہوگا۔ روزگار، فنی تربیت، صنعت اور میرٹ پر مبنی نظام کے بغیر ہجرت کو روکنا ممکن نہیں۔ جب تک معیشت اپنی افرادی قوت کو جذب کرنے کے قابل نہیں ہوتی، بیرونِ ملک جانا ناکامی نہیں بلکہ ایک حفاظتی راستہ ہے۔
یہ برین ڈرین نہیں۔
یہ قلیل مدتی معاشی بقا اور طویل مدتی صلاحیت سازی ہے۔
جب پاکستان اپنے لوگوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرے گا، تو بہت سے لوگ واپس آئیں گے — زیادہ باخبر، زیادہ مستحکم اور زیادہ مضبوط ہو کر۔
مصنف کا تعارف
ڈاکٹر اشرف چوہان برطانیہ میں مقیم کنسلٹنٹ آرتھوپیڈک سرجن (MBBS, FRCS Orth) ہیں اور DAC گروپ آف کمپنیز کے چیئرمین ہیں، جن کے کاروباری مفادات صحت، پراپرٹی اور کاروباری ترقی پر محیط ہیں۔ وہ ہیومن کیئر ٹرسٹ انٹرنیشنل کے بانی اور ڈیلی ریپڈ نیوز لاہور کے چیف ایڈیٹر ہیں، اور صحت، افرادی قوت اور پاک–برطانیہ امور پر باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔




