بھارتی وفد نے خالدہ ضیا کے جنازے میں شرکت سے روکنے کی کوشش کی، ایاز صادق کا انکشاف

اسلام آباد: سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے بھارتی وفد کی جانب سے انہیں خالدہ ضیا کے جنازے میں شرکت کرنے سے زبردستی روکنے کا انکشاف کردیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے آج وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی جس میں انہوں نے حالیہ دورہ بنگلہ دیش اور بھارتی وزیر خارجہ سے ملاقات سے متعلق احوال سے آگاہ کیا، انہوں نے وزیراعظم کو حالیہ دورہ بنگلہ دیش پر تفصیلی بریفنگ دی، سپیکر قومی اسمبلی نے دورہ بنگلہ دیش سفارتی لحاظ سے انتہائی کارآمد اور مفید قرار دیتے ہوئے وزیراعظم کو بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر سے ہونے والی مختصر ملاقات پر بھی اعتماد میں لیا۔
ایاز صادق نے بتایا کہ جے شنکر نے خود میری نشست پر آ کر ملاقات کی اور اپنا تعارف بھارتی وزیر خارجہ کے طور پر کرایا، جس پر میں نے بھی ان سے احوال دریافت کیا، بھارتی وزیر خارجہ سے یہ مختصر ملاقات 6 یا 7 سیکنڈ کی تھی، جے شنکر کی جانب سے میری نشست پر آ کر مصافحہ کرنا میرے لیے حیران کن رہا، وہ پوری تیاری اور منصوبہ بندی سے مجھ سے ملاقات کے لیے آئے تھے، بھارتی وزیر خارجہ سے غیر رسمی ملاقات کے دوران انتہائی محتاط رویہ اختیار کیا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ بھارتی وفد نے مجھے سابق بنگلہ دیشی وزیراعظم خالدہ ضیا کے جنازے میں شرکت کرنے سے زبردستی روکنے کی کوشش کی، پاکستان، مالدیپ، نیپال اور بھوٹان کے وفود کو ایک بس میں جنازہ گاہ لایا گیا، جب بس میں سوار ہوا تو بھارتی وزیر خارجہ اور ہائی کمشنر اگلی نشست پر بیٹھے تھے، بھارتی وفد نے بس کے شیشوں پر لگے پردے آگے کر رکھے تھے تاکہ لوگوں سے بچ سکیں جب کہ میں اپنے ہائی کمشنر کے ساتھ پچھلی نشست پر بیٹھ گیا اور پردے سائیڈ پر کرکے بنگلہ دیشی عوام کے نعروں کا ہاتھ ہلا کر جواب دیتا رہا۔
سپیکر قومی اسمبلی نے بتایا کہ بھارتی وفد پوری تیاری اور منصوبہ بندی کے تحت وہاں آیا تھا۔،جیسے ہی بس جنازہ گاہ پہنچی تو بھارتی ہائی کمشنر بس کے دروازے پر کھڑے ہوگئے، جب میں نیچے اترنے لگا تو بولے کہ آپ مت جائیں نیچے رش ہے اور آپ کو خطرہ ہے، جس پر میں نے بھارتی ہائی کمشنر سے کہا دروازہ کھولیں میں تو یہاں آیا ہی جنازے میں شرکت کے لیے ہوں، جب انہوں نے دروازہ نہیں کھولا تو میں نے غصہ میں زور سے کہا دروازہ کھولو اور دروازہ کھلنے کے بعد نیپال اور مالدیپ کے وفود کو ساتھ لے کر نیچے اترگیا لیکن بھارتی وزیر خارجہ اور ہائی کمشنر بس میں ہی بیٹھے رہے کیونکہ انہیں جنازہ پڑھنا نہیں تھا، ان کی پوری کوشش تھی میں بھی جنازہ نہ پڑھ سکوں اور یہ ایشو بناسکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں