اسلام آباد: بھارت کی جانب سے فراہمی سے انکار کے باعث پاکستان کو حفاظتی ویکسین کی کمی کا سامنا کرنا پڑگیا، دراۤمد کا بل بڑھنے کا بھی خدشہ پیدا ہوگیا، پاکستان میں ہر سال تقریباً 14 کروڑ ویکسین شہریوں کو مفت فراہم کی جاتی ہیں۔حکومت کی طرف سے شہریوں کو 13 اقسام کی ویکسین مفت فراہم کی جاتی ہیں لیکن ان میں سے کوئی ایک بھی ویکسین ملک میں تیار نہیں ہوتی بلکہ تمام ویکسین بیرونِ ملک سے درآمد کی جارہی ہیں، حکومت پاکستان یہ ویکسین عالمی اداروں کے تعاون سے درآمد کرتی ہے، جن میں ڈبلیو ایچ او، یونیسف اور گاوی شامل ہیں، ان اداروں کی جانب سے ویکسین کی قیمت کا بڑا حصہ ادا کیا جاتا ہے جس کے باعث حکومت پر مالی بوجھ نسبتاً کم رہتا ہے اور اس وقت پاکستان کو ویکسین کی درآمد کے لیے سالانہ 35 کروڑ سے 40 کروڑ ڈالر ادا کرنا پڑتے ہیں۔
وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے بتایا ہے کہ عالمی ادارے بتدریج اپنی مالی معاونت کم کر رہے ہیں اور سال 2030ء تک یہ معاونت مکمل طور پر ختم ہو جائے گی، اگر مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری کا بندوبست نہ کیا گیا تو 2030ء کے بعد حکومت پاکستان کو شہریوں کو مفت ویکسین فراہم کرنے کے لیے سالانہ 1.2 ارب ڈالر ادا کرنا ہوں گے جو قومی معیشت پر ایک بڑا بوجھ ثابت ہو سکتا ہے۔
ان کا یہ بھی بتانا ہے کہ جس ادارے گاوی سے پاکستان ویکسین لیتا ہے وہ بھارت سے ویکسین کی خریداری کرتا ہے اور مئی میں جب دونوں ممالک کے درمیان لڑائی ہوئی تو بھارت نے ان کو ویکسین دینا بند کردی تھی جس کے بعد پاکستان کو ویکسین کی کمی کا سامنا رہا، اس تمام تر صورتحال کے پیشِ نظر حکومت پاکستان نے چین، انڈونیشیا اور سعودی عرب کے ساتھ مقامی ویکسین سازی کے امکانات پر رابطے تیز کر دیئے ہیں۔
وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال کا کہنا ہے کہ ان ممالک کے وزرائے صحت سے ملاقاتیں کی ہیں، اس سلسلے میں سعودی عرب کے وزیر صحت کے ساتھ تین ملاقاتیں ہو چکی ہیں اور سعودی وفد 28 تاریخ کو پاکستان کا دورہ کرے گا، جس کے بعد ممکنہ طور پر دونوں ممالک کے درمیان شروع ہونے والے مشترکہ منصوبے یعنی جوائنٹ وینچر کے تحت پاکستان میں مقامی طور پر یہ ویکسین تیار کرنے سے متعلق معاملات کو حتمی شکل دی جائے گی۔
بھارت کا فراہمی سے انکار، پاکستان کو حفاظتی ویکسین کی کمی کا سامنا




