تحریر:ڈاکٹر اشرف چوہان
چیف ایڈیٹر روزنامہ ریپڈ لاہور
فوجی فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ (FFC) پاکستان کی سب سے بڑی اور معتبر کھاد بنانے والی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے اور زرعی معیشت میں ایک کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ اس کمپنی کی بنیاد 1978ء میں رکھی گئی، جبکہ اس کا پہلا یوریا پلانٹ پنجاب کے علاقے صادق آباد میں قائم کیا گیا۔ ابتدا میں یہ ادارہ فوجی فاؤنڈیشن اور ڈنمارک کی کمپنی ہالڈور ٹاپسو کے اشتراک سے وجود میں آیا، جس نے پاکستان میں جدید کھاد سازی کی صنعت کی بنیاد رکھی۔ بعد ازاں 1990ء کی دہائی میں اسے پاکستان کی اسٹاک ایکسچینجز میں لسٹ کیا گیا، جس سے عوامی شراکت اور شفافیت میں اضافہ ہوا.
فوجی فرٹیلائزر کی بنیادی مالک فوجی فاؤنڈیشن ہے، جو تقریباً 43 فیصد حصص کی حامل ہے۔ فوجی فاؤنڈیشن ایک فلاحی ادارہ ہے جو افواجِ پاکستان سے وابستہ ہے اور سابق فوجیوں اور ان کے اہلِ خانہ کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتا ہے۔ باقی حصص مختلف مالیاتی اداروں اور عام سرمایہ کاروں کے پاس ہیں، جس کے باعث یہ ایک مضبوط عوامی کمپنی سمجھی جاتی ہے۔
کمپنی کا بنیادی کاروبار کھاد کی تیاری، خرید و فروخت اور مارکیٹنگ ہے، جن میں یوریا، ڈی اے پی، ایس او پی اور دیگر زرعی کیمیکلز شامل ہیں، جو پاکستان کی زرعی پیداوار کے لیے ناگزیر ہیں۔ اس کے علاوہ، فوجی فرٹیلائزر نے توانائی، فوڈ پراسیسنگ اور تکنیکی خدمات جیسے شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کی ہے اور اس کی ذیلی کمپنیاں مختلف صنعتی میدانوں میں سرگرم ہیں۔
مالی اعتبار سے، فوجی فرٹیلائزر پاکستان کی سب سے مضبوط کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔ حالیہ برسوں میں اس کی مارکیٹ ویلیو 840 ارب روپے سے زائد رہی ہے، جو سرمایہ کاروں کے اعتماد کا مظہر ہے۔ کمپنی کے کل اثاثے تقریباً 570 ارب روپے جبکہ واجبات لگ بھگ 315 ارب روپے کے قریب ہیں، جو ایک مستحکم مالی بنیاد کو ظاہر کرتے ہیں۔
سالانہ کارکردگی کے لحاظ سے، فوجی فرٹیلائزر نے حالیہ مالی سال میں تقریباً 83 ارب روپے منافع کمایا، جو اس کی مؤثر انتظامیہ اور مضبوط کاروباری ماڈل کی عکاسی کرتا ہے۔
مجموعی طور پر، فوجی فرٹیلائزر کمپنی پاکستان کے زرعی شعبے کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہے، جو صنعتی استحکام، مالی مضبوطی اور قومی غذائی تحفظ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔




