اسلام آباد: حکومت نے سولر صارفین کیلئے بلنگ کا نیا نظام نافذ کردیا جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا، جس کے ذریعے 2015ء کی نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز ختم کردی گئی ہیں، تاہم پرانے معاہدے اپنی مدت پوری ہونے تک برقرار رہیں گے، ان کی تجدید کے وقت نئی نیٹ بلنگ ریگولیشنز کا اطلاق ہوگا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی ( نیپرا) نے نیٹ میٹرنگ کے پرانے نظام کو ختم کرکے نیٹ بلنگ کا نیا قانون نافذ کیا ہے، اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا، اس نئے قانون کا اطلاق ناصرف گھریلو اور صنعتی صارفین پر ہوگا بلکہ بائیو گیس، ونڈ و دیگر صاف ذرائع سے بجلی پیدا کرنے والے افراد بھی اس کے دائرہ کار میں آئیں گے اگر ان کی پیداواری صلاحیت ایک میگاواٹ تک ہوگی۔
بتایا گیا ہے کہ نئے نظام کے تحت اگر کوئی صارف جتنی بجلی پیدا کرے اس سے زیادہ استعمال کرے گا تو اسے استعمال شدہ بجلی کا بل موجودہ ٹیرف پر ادا کرنا ہو گا یعنی اب صارفین سے اضافی بجلی 27 روپے کی بجائے موجودہ نیشنل ایوریج ٹیرف یعنی بجلی کی اوسط قیمت پر خریدی جائے گی، اگر پیداوار استعمال سے زیادہ ہو تو اضافی بجلی قومی گرڈ کو فروخت سمجھی جائے گی جس کی قیمت نیشنل ایوریج ٹیرف کے مطابق طے کی جائے گی یعنی اب صارفین کو ان کی فراہم کردہ بجلی کی قیمت اسی شرح سے ملے گی جو قومی سطح پر طے کی گئی ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ یہ ایڈجسٹمنٹ ہر بلنگ سائیکل کے اختتام پر کی جائے گی اور اگر رقم زیادہ بنی تو وہ اگلے بل میں ایڈجسٹ ہوگی یا سہ ماہی بنیاد پر صارف کو ادا کی جائے گی، نیٹ بلنگ کے لیے صارف کو پہلے اپنی مقامی بجلی تقسیم کار کمپنی میں درخواست دینا ہوگی، کمپنی درخواست گزار کی رہنمائی کرے گی اور یہ جانچ کرے گی کہ آیا سسٹم کو محفوظ طریقے سے گرڈ سے منسلک کیا جا سکتا ہے یا نہیں، اس نظام میں تکنیکی اور حفاظتی تقاضے سخت ہوں گے تاکہ گرڈ کے استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
بتایا جارہا ہے کہ وولٹیج اور فریکوئنسی مقررہ حدود میں رکھنا، حفاظتی آلات کی تنصیب اور ہنگامی صورتحال میں سسٹم کو الگ کرنے کے انتظامات لازمی ہوں گے، منظوری کے بعد فریقین کے درمیان باقاعدہ معاہدہ ہوگا اور نیپرا کی حتمی اجازت کے بعد بجلی کی ترسیل یا فروخت شروع کی جا سکے گی، کسی بھی خطرے کی صورت میں بجلی کمپنی عارضی طور پر کنکشن منقطع بھی کرسکے گی۔
نیٹ میٹرنگ ختم بلنگ شروع، حکومت نے سولر صارفین کیلئے نیا نظام نافذ کردیا




