بنگلہ دیش آگے بڑھ رہا ہے: جلاوطنی سے اقتدار تک، افراتفری سے جمہوری تجدید تک

تحریر: ڈاکٹر اشرف چوہان

بنگلہ دیش اپنی سیاسی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ جلاوطنی سے اقتدار تک اور عدم استحکام سے جمہوری توازن کی بحالی تک کا یہ سفر محض قیادت کی تبدیلی نہیں بلکہ ادارہ جاتی ارتقا کی علامت ہے۔ اس ملک کی سیاست طویل عرصے تک شدید سیاسی کشمکش، عوامی احتجاج اور آئینی بحرانوں سے عبارت رہی ہے۔ تاہم آج ایسے واضح آثار موجود ہیں کہ ریاستی اداروں کی غیر جانبداری اور انتخابی شفافیت کے ذریعے استحکام کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ماضی میں نظرانداز یا جلاوطن کی گئی سیاسی قیادت کی واپسی ایک مضبوط جمہوری پیغام دیتی ہے: سیاسی جواز کا سرچشمہ صرف اور صرف عوامی ووٹ ہونا چاہیے، نہ کہ جبر یا اخراج۔ بنگلہ دیش کی تاریخ گواہ ہے کہ سیاسی اخراج عدم استحکام کو جنم دیتا ہے جبکہ شمولیت قومی استحکام کو مضبوط کرتی ہے۔ اپوزیشن قوتوں کی مرکزی سیاست میں واپسی نے کشیدگی کو کم کیا اور جمہوری دائرہ کار کو وسیع کیا ہے۔

اس تبدیلی میں عدلیہ کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ باوقار قانونی شخصیات، جن میں ڈاکٹر محمد یونس بھی شامل ہیں، کی اصلاحی سوچ نے حکمرانی کے مباحث کو تقویت دی ہے۔ اگرچہ ڈاکٹر یونس عالمی سطح پر معاشی جدت اور سماجی کاروبار کے حوالے سے معروف ہیں، تاہم ان کی اخلاقی ساکھ نے قانون کی حکمرانی اور شفافیت کے مطالبے کو مضبوط کیا ہے۔ عدلیہ کی بنیادی ذمہ داری آئین کی تشریح، شہری آزادیوں کا تحفظ اور انتظامیہ کو قانونی حدود میں رکھنا ہے۔

حالیہ مہینوں میں عدالتوں نے سیاسی نوعیت کے حساس معاملات میں نسبتاً زیادہ خودمختاری کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ غیر جانبداری کسی بھی جمہوریت کی بنیاد ہے۔ آزاد عدلیہ کے بغیر انتخابات محض رسمی کارروائی بن کر رہ جاتے ہیں۔

اسی طرح عبوری حکومت کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ عبوری انتظامیہ کی ذمہ داری صرف استحکام اور آزاد، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد تک محدود ہونی چاہیے۔ ریاستی مشینری کا غیر جانبدار استعمال، انتخابی اداروں کی خودمختاری، اور تمام سیاسی جماعتوں کے لیے یکساں مواقع جمہوری عمل کے لیے لازمی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ووٹر فہرستوں کی جانچ، نگرانی کے بہتر نظام اور بین الاقوامی مبصرین کی موجودگی جیسے اقدامات مثبت پیش رفت کی علامت ہیں۔

غیر جانبدار انتخابات صرف پولنگ کے دن تک محدود نہیں ہوتے بلکہ منصفانہ میڈیا رسائی، سیکیورٹی اداروں کی غیر جانبداری، شفاف ووٹوں کی گنتی اور نتائج کو تسلیم کرنے کے رویے سے جمہوریت مستحکم ہوتی ہے۔

بنگلہ دیش اس مرحلے پر صرف سیاسی نہیں بلکہ ادارہ جاتی ابھار کی طرف گامزن ہے۔ اگر عدلیہ، عبوری حکومت اور انتخابی عمل اپنی غیر جانبداری برقرار رکھتے ہیں تو ملک ایک مستحکم اور جامع جمہوری مستقبل کی طرف پیش قدمی کر سکتا ہے۔ تاریخ اس دور کا فیصلہ نعروں سے نہیں بلکہ اداروں کی مضبوطی سے کرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں