ریاض :سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے مسافر ہال نمبر 4 پر حوثی باغیوں کی جانب سے پروجیکٹائل اور میزائل حملہ کے نتیجے میں ایک پاکستانی شہری جاں بحق جبکہ 11 افراد شدید زخمی ہو گئے۔
عالمی میڈیا کے مطابق سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پروجیکٹائل براہِ راست ایئرپورٹ کے ٹرمینل 4 سے جا ٹکرایا، جس کے باعث ہال میں آگ بھڑک اٹھی اور انفراسٹرکچر کو شدید مادی نقصان پہنچا۔
سعودی عرب کی سربراہی میں قائم عسکری اتحاد نے بتایا کہ فضائی دفاعی نظام نے حوثی باغیوں کے ایک اور میزائل کو فضا میں ہی ناکارہ بنا دیا، تاہم حملے کی شدت کے باعث دارالحکومت کی فضا میں دو شدید دھماکے سنے گئے جس سے رہائشی علاقوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا، جب کہ اس حملے سے ایک روز قبل بھی ایئرپورٹ پر ہونے والی پرتشدد کارروائی میں 12 افراد جاں بحق اور 309 زخمی ہو چکے تھے، جس کے بعد ایئرپورٹ کی پروازیں معطل کرکے خطے میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا۔
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور علاقائی امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا، انہوں نے بتایا کہ ریاض میں قائم پاکستانی سفارتخانے کو ہنگامی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ تمام زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائے اور متاثرہ خاندانوں کی مکمل دیکھ بھال کرے۔
اسی طرح وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بھی اپنے خصوصی پیغام میں اس واقعے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی، دوسری جانب وفاقی حکومت نے مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے اپنے غیر متزلزل اور مکمل عزم کا اعادہ کیا ہے۔
ریاض ایئرپورٹ پر دوسرے حملے میں ایک پاکستانی جاں بحق، 11 افراد زخمی




