پریس کانفرنس کرنے والوں کو معافی باقی نشانہ، یہ حقائق ہیں کیا عدالت آنکھیں بند کرلے؟ جسٹس اطہر من اللہ

سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں سے متعلق الیکیشن کمیشن اور پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف دائر سنی اتحاد کونسل کی اپیل پر سماعت جاری ہے۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحیی آفریدی، جسٹس امین الدین بینچ کا حصہ ہونگے۔ جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس حسن اظہر رضوی بینچ کا حصہ ہوں گے جبکہ جسٹس شاہد وحید، جسٹس عرفان سادات خان اور جسٹس نعیم اختر افغان بھی بینچ میں شامل ہیں۔

سماعت کے آغاز پر سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی کی جانب سے جسٹس منیب اختر، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس منصورعلی شاہ کے فیصلوں کا حوالہ دیا گیا۔ وکیل کے مطابق فیصلوں میں آئینی تشریح کو نیچرل حدود سے مطابقت پر زور دیا گیا۔

وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ آئینی شقوں کے کچھ بنیادی پہلو ہیں، ایک پہلو تو یہ ہے کہ مخصوص نشستیں متناسب نمائندگی کےاصول پر ہوں گی، دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہ نشستیں ہر جماعت کی دی گئی فہرست پر ہوں گی، تیسرا پہلو یہ ہے کہ ہرجماعت کواپنی جنرل نشستوں کےحساب سےہی یہ نشستیں آزاد امیدواروں کی شمولیت کےبعد ملیں گی، آزاد امیدوار کسی بھی سیاسی جماعت میں شامل ہوسکتے ہیں۔

وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعت کی غلط تشریح کی، الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں سے متعلق آئین کو نظرانداز کیا، الیکشن کمیشن کہہ رہا ہے آزاد امیدواراس جماعت میں بھی جا سکتے ہیں جس نے الیکشن نہیں لڑا، دوسری جانب الیکشن کمیشن نےکہہ دیا مخصوص نشستیں اسی جماعت کو ملیں گی جس نےالیکشن لڑا ہو، الیکشن کمیشن آئین میں دی گئی چیزوں کی نفی کر رہا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائزعیسیٰ نے وکیل فیصل صدیقی کے دلائل کی تعریف کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ میں اس بات کوبھی سراہوں گا اگرآپ الیکشن کمیشن کی تشریح چھوڑ کر آئینی تشریح کا بتائیں، اپنی تشریح کو چھوڑیں ٹیکسٹ سے بتا دیں آئین میں کیا ہے۔

جسٹس میاں محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ مخصوص نشستیں کسی جماعت کو اسکی جیتی ہوئی نشستوں کےحساب سےملتی ہیں، آزاد امیدوار ایسی جماعت میں جائیں جس نے الیکشن نہ لڑا ہو تو کیا وہ اس جماعت کی جیتی ہوئی نشستیں کہلائیں گی؟

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے انتخابات سے پہلےاپنے ایک آرڈر سےکنفیوژکیا، سلمان اکرم راجہ نے وہ آرڈر ریکارڈ پر پیش کر دیا ہے، انتخابی نشان چَلے جانے کے بعد بھی پی ٹی آئی بطور جماعت موجود تھی، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پی ٹی آئی انتخابی نشان کے بعد بھی بطورجماعت موجود تھی، آزاد امیدواروں نے پی ٹی آئی میں شمولیت کیوں نہ کی؟ آپ نے اپنے طور پر خود کشی کا فیصلہ کیوں کیا؟

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آزاد امیدواروں کی جماعت میں شمولیت کا آپشن کسی وجہ سے ہے، آزاد امیدواروں کو سہولت دی گئی ہے الیکشن میں نشستیں جیتنے والی جماعت میں وہ چلےجائیں، یہ ایسی جماعت کیلئے نہیں ہے جس نے الیکشن لڑنے کی زحمت نہ کی ہو۔

وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سوال یہی ہے کہ الیکشن میں حصہ نہ لینے والی جماعت کو مخصوص نشستیں مل سکتی ہیں یا نہیں، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کہنا چاہ رہے ہیں عدالت آئین میں درج الفاظ کےمطلب پر تشریح نہ کرے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ عدالت نے صرف مطلب کو نہیں بلکہ آئین کی شقوں کے مقصد کو بھی دیکھنا ہے۔

جسٹس امین الدین خان نے استفسار کیا کہ کیا آزاد ارکان نئی سیاسی جماعت قائم کر سکتے ہیں؟ وکیل نے کہا کہ آزاد ارکان اگر تین دن میں سیاسی جماعت رجسٹر کروا سکتے ہیں تو ضروراس میں شامل ہوسکتے ہیں، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کہتے ہیں سیاسی جماعت کیلئے انتخابات میں نشست حاصل کرنا ضروری نہیں ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ مخصوص نشستوں کا انتخابی نشان نہ ہونے سے کوئی تعلق نہیں، الیکشن کمیشن تسلیم کرتا ہے کہ پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل دونوں رجسٹرڈ جماعتیں ہیں۔

جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ امیدواروں نے پی ٹی آئی امیدوار کے طور پرکاغذات جمع کرائے، الیکشن کمیشن نے انہیں آزاد ڈیکلیئرسپریم کورٹ کےانتخابی نشان والے فیصلے کی وجہ سے کیا، یہ خطرناک تشریح کا معاملہ ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کون ہوتا ہے پارٹی اورامیدوار کے درمیان آکر کہنے والا آپکا آپس میں تعلق نہیں۔

وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ہم نے یہ سارے نکات وہاں اٹھائے تھے، چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے سے کیا مراد؟ آپ سنی اتحاد کونسل کی نمائندگی کررہے ہیں یا پی ٹی آئی کی؟ ہم یہ نہیں دیکھ رہے الیکشن کمیشن نے کتنی زیادتی کی یا نہیں؟ ہم یہ دیکھ رہے ہیں آئین کیا کہتا ہے۔ جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے کہ سب لوگوں نے پی ٹی آئی کا سرٹیفکیٹ جمع نہیں کرایا تھا، کچھ لوگوں نے پی ٹی آئی نظریاتی کا سرٹیفکیٹ دیا تھا۔

چیف جسٹس نے وکیل فیصل صدیقی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ سنی اتحاد کونسل کے وکیل ہیں پی ٹی آئی کے نہیں، آپ کے پی ٹی آئی کے حق میں دلائل مفاد کے ٹکراؤ میں آتا ہے، سنی اتحاد کونسل سے تو انتحابی نشان واپس نہیں لیا گیا، آئین پر عمل نہ کر کے اس ملک کی دھجیاں اڑا دی گئی ہیں، میں نے آئین پر عملدرآمد کا حلف لیا ہے، ہم نے کسی سیاسی جماعت یا حکومت کے مفاد کو نہیں آئین کو دیکھنا ہے۔

” آئینی تشریح کرتے وقت تلخ حقائق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا”

وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ اس ملک میں متاثرہ فریق کے پاس کوئی آپشن نہیں ہوتا، جس پر چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ یہ بزدلوں والی لائن نہ لیں، اس ملک میں ایسی ججز رہے ہیں جنہوں نے اصول پر استعفیٰ بھی دیا، ایسے ججزگزرے ہیں جنہوں نےپی سی او پر حلف لینے سے انکارکیا، کیا ہم آئین کے نیچرل معنی کو نظرانداز کریں؟ ایسا کیوں کریں؟ آپ باہر کی مثالیں دیتے ہیں جہاں کا آئین بہت پرانا ہے، ہمارے آئین کواتنا عرصہ نہیں گزرا اور اسکےساتھ کیا کیا گیا ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آئینی تشریح کرتے وقت تلخ حقائق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، یہ لوگوں کے ووٹ کے حق کا معاملہ ہے، الیکشن پر سنجیدہ سوالات اٹھائےگئے 2018 میں بھی یہی ہوا، پریس کانفرنس کرنے والوں کو معافی دی جاتی رہی باقیوں کو نشانا بنایا جاتا رہا، یہ حقائق سب کے علم میں ہیں کیا عدالت آنکھیں بند کرلے۔ کیا آنکھیں بند کرکے ایک سیاسی جماعت کو یہ چیلنجز بھگتنے کیلئے چھوڑدیں؟ یہ سیاسی جماعت کا بھی نہیں اس کے ووٹرز کا معاملہ ہے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہمارے سامنے وہ سیاسی جماعت تو آئی ہی نہیں، ہمارے سامنے وہ امیدوار بھی نہیں آئے ورنہ صورتحال مختلف ہوتی، چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کی تاریخ عارف علوی نہیں دے رہے تھے ، لاہورہائیکورٹ میں ایک درخواست سےعام انتخابات رکوانے کی کوشش ہوئی، وہاں درخواستگزار پی ٹی آئی تھی نام لیں نا، پی ٹی آئی کو ایک سال کہا جاتا رہا الیکشن کروا لو، اس وقت کون تھا وزیراعظم؟ ” بانی پی ٹی آئی “، ووٹرزکے حق کی بات کرتے ہیں تو پی ٹی آئی کے ممبران کا وہ حق کدھر گیا؟ الیکشن والے کیس میں علی ظفر ہمارے سامنے تھے آج وہ نظر نہیں آرہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں