اسلام آباد:وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس اس وقت پیٹرول اور ڈیزل کا 28 دن کا ذخیرہ موجود ہے، اس وقت ملک کے پاس دس دن کا خام تیل بھی موجود ہے، ایل این جی کے حوالے سے فی الحال کوئی مسئلہ درپیش نہیں، ہم ہر دن 2 بجے پٹرولیم مصنوعات کے اسٹاک اور سپلائی پر میٹنگ کرتے ہیں، ابھی تک حالات کنٹرول میں ہیں لیکن اگر حالات خراب ہوتے ہیں تو ہمیں بحیثیت قوم انرجی پر ڈسپلن لانا ہوگا۔
اسلام آباد میں سینیٹ کی خزانہ کمیٹی کے اجلاس کو بریفنگ میں انہوں نے بتایا کہ گزشتہ جمعہ سے خطے کی صورتحال میں تیزی سے تبدیلی آئی ہے جس کے اثرات توانائی کے شعبے پر بھی پڑ سکتے ہیں، اسی کے پیش نظر وزیراعظم نے پیٹرولیم سے متعلق ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی ہے جسے رئیل ٹائم میں فیصلے کرنے کا اختیار دیا گیا ہے، کمیٹی کا اجلاس روزانہ کی بنیاد پر ہوگا تاکہ بدلتی ہوئی صورتحال کے مطابق فوری اقدامات کیے جا سکیں۔
وزیرخزانہ نے کہا کہ جب حالات گھنٹوں میں تبدیل ہو رہے ہوں تو بروقت فیصلہ سازی نہایت ضروری ہو جاتی ہے، اور نئی کمیٹی اسی مقصد کے لیے قائم کی گئی ہے، فیول سپلائی کے حوالے سے پاکستان اس وقت ایک بہتر پوزیشن میں ہے اور فوری طور پر گھبرانے کی ضرورت نہیں، اگر قطر سے ایل این جی کا طے شدہ کارگو وقت پر آ گیا تو صورتحال مزید بہتر ہو جائے گی، تاہم اگر علاقائی تنازع طویل ہو جاتا ہے تو مزید منصوبہ بندی کرنا ہوگی اور توانائی کے استعمال میں بچت کی پالیسی اپنانا پڑے گی، بحران سے نکلنے کے لیے انرجی کنزرویشن کی جانب جانا ہوگا تاکہ درآمدی دباؤ کم کیا جا سکے۔
ان کا کہنا ہے کہ حکومت کا مقصد ایندھن کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانا اور ممکنہ بحران سے بروقت نمٹنا ہے تاکہ عوام اور صنعتوں کو کسی بڑی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے جب کہ عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ سٹیٹ بینک کی تعمیری بات چیت ہوئی ہے اور آئی ایم ایف سے ورچوئل مذاکرات جاری ہیں، حکومت بدلتی ہوئی معاشی اور جغرافیائی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید اقدامات کیے جائیں گے۔
28 دن کا پیٹرول ذخیرہ ہے، اگر حالات خراب ہوتے ہیں تو بحیثیت قوم انرجی پر ڈسپلن لانا ہوگا، وزیرِخزانہ




