اسلام آباد : عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو گیا، برطانوی خام تیل کی فی بیرل قیمت 117 ڈالرز کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ بین الاقوامی منڈیوں میں بدھ کوبھی خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ کارحجان جاری رہا۔ برینٹ کروڈ کے تحت خام تیل کے مستقبل کے سودے 5.07فیصد کے اضافہ کے بعد 117ڈالر فی بیرل میں طے پائے، امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کے تحت مسستقبل کے سودے 5فیصد کے اضافہ کے بعد105 ڈالرمیں طے پائے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ واشنگٹن اور تہران میں شدید اندرونی سیاسی دبائو کے باعث امریکہ اور ایران کے درمیان حتمی امن معاہدہ کھٹائی میں پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ مذاکرات ناکام ہوئے تو خطے میں ایک وسیع تر جنگ چھڑ سکتی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر جائے گی۔
دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے بعد پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے باعث پیٹرول کی قیمت 400 روپے فی لیٹر کی تاریخی سطح عبور کرنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کے اثرات آئندہ قیمتوں کے تعین میں پاکستان پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق عالمی قیمتوں میں مسلسل اضافہ برقرار رہا تو آئندہ جائزے میں ملکی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اس تیزی کی بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے، امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی تلخی اور امن مذاکرات میں تعطل نے عالمی مارکیٹ میں بے یقینی پیدا کر دی ہے۔
پاکستان اپنی ایندھن کی ضروریات کے لیے بڑی حد تک درآمدی تیل پر منحصر ہے، اس لیے عالمی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست مقامی مارکیٹ پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی رجحان کے پیشِ نظر پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 400 روپے فی لیٹر کی تاریخی سطح سے تجاوز کر سکتی ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق اگر عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں اسی طرح برقرار رہیں تو مئی کے پہلے عشرے میں پاکستانی عوام کو مہنگائی کے ایک نئے اور شدید جھٹکے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم لیوی کی وصولی پہلے ہی 1468 ارب روپے کے سالانہ ہدف کو عبور کرنے کے قریب ہے، لیکن اس کے باوجود لیوی کو مزید بڑھانے کے لیے مشاورت جاری ہے۔




