پاک افغان کشیدگی؛ ترکی اور روس کی ثالثی کی پیشکش، چینی سفیر نے ملاقاتوں کا آغاز کردیا

اسلام آباد: پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کیلئے ترکی اور روس نے ثالثی کی پیشکش کی ہے جب کہ چینی سفیر نے اس مقصد کیلئے ملاقاتیں شروع کردی ہیں۔ بی بی سی اردو کے مطابق ماسکو میں روس کے خصوصی نمائندے برائے افغانستان ضمیر کابلوف نے طالبان حکومت کے سفیر گل حسن سے ملاقات کی، اس موقع پر انہوں نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان مسائل حل کرنے کے لیے روس ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے کیوں کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان جاری تنازعہ کو بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیئے۔
بتایا جارہا ہے کہ اس سے قبل ترکی بھی افغانستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کے نفاذ کے لیے ثالث اور سہولتکار کا کردار ادا کر چکا ہے تاہم ترکی، قطر اور سعودی عرب کی کوششوں کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کو مکمل ختم نہیں کیا جا سکا، اب ایک بار پھر ترک صدر رجب طیب اردوغان نے پاکستانی وزیرِاعظم شہباز شریف سے ٹیلی فون پر گفتگو میں کہا کہ ترکی افغانستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی قائم کرنے میں مدد کے لیے تیار ہے، سفارتکاری کی طرف واپسی اور جنگ بندی کا دوبارہ آغاز خطے میں تشدد کو کم کرنے اور استحکام قائم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
ادھر کابل میں چین کے سفیر ژاؤ شِنگ نے افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی سے ملاقات کی، جس میں انہوں نے افغانستان اور پاکستان کے درمیان جاری تنازعہ پر اپنے خدشات کا اظہار کیا، ملاقات میں امیر خان متقی نے زور دیا کہ ’افغانستان ایسے تعلقات چاہتا ہے جو باہمی احترام، داخلی معاملات میں عدم مداخلت اور اچھے ہمسایہ تعلقات پر مبنی ہوں‘، اس پر چینی سفیر نے موجودہ صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’کچھ بیرونی عناصر خطے کے استحکام اور ترقی کے خلاف کام کر رہے ہیں، خطے کے ممالک زیادہ ہم آہنگی اور تعاون کے ذریعے ان منفی اثرات کو روک سکتے ہیں‘۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں