اسلام آباد : آبنائے ہرمز بند ہونے کے اثرات معیشت تک پہنچنا شروع ہوچکے ہیں اور پاکستان آنیوالے ہر کنٹینر پر 2 ہزار ڈالر تک اضافی چارجز وصول کیے جانے لگے۔ دنیا نیوز کے مطابق ایران اسرائیل جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات ملکی معیشت تک پہنچنا شروع ہو گئے ہیں، بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں جنگی خطرات، بڑھتے انشورنس پریمیم اور متبادل بحری راستوں کے اضافی اخراجات کی مد میں پاکستان آنے والے ہر کنٹینر پر 1500سے 2000 ڈالر تک اضافی چارجز وصول کرنے لگی ہیں۔
سرکاری اعدادوشمار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ملکی بندرگاہوں پر یومیہ تقریباً پانچ ہزار کنٹینرز ہینڈل ہوتے ہیں یعنی ان کنٹینروں پر روزانہ 75 لاکھ سے ایک کروڑ ڈالر تک اضافی ادائیگی کرنا پڑے گی، یہ بوجھ یقینی طور پر درآمد کنندگان، صنعتکاروں اور صارفین پر منتقل ہوگا جس سے ملک میں مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہوگی، جو پہلے ہی اٹھارہ مہینوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، اسی طرح توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور درآمدی اخراجات میں اضافہ برآمدی شعبے کی مسابقتی صلاحیت کو کمزور کریں گے۔
دوسری طرف وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور پاکستان میں سعودی سفیر نواف سعید المالکی کی ملاقات ہوئی ہے، جس میں سعودی سفیر نے وفاقی وزیر کو ملاقات کے دوران پاکستان کو تیل فراہمی کیلئے متبادل روٹ دینے کی یقین دہانی کرائی، سعودی سفیر نواف سعید المالکی نے کہا کہ کسی بھی ہنگامی ضرورت کے پیش نظر پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھیں گے، پاکستان اور سعودی عرب آزمائش میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
اس حوالے سے علی پرویز ملک نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کی بیشتر پیٹرولیم سپلائی آبنائے ہرمز کے راستے آتی ہے، ان حالات میں سعودی عرب کی حمایت پاکستان کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے، سعودی عرب نے بندرگاہ یانبو کے ذریعے سپلائی کی سکیورٹی کی یقین دہانی کرائی ہے، اس مشکل وقت میں پاکستان کی سپورٹ پر سعودی عرب کے شکرگزار ہیں، امید ہے بندرگاہ یانبو سے تیل کی سپلائی میں پاکستان کو ترجیح دی جائے گی۔
آبنائے ہرمز بند؛ اثرات معیشت تک پہنچنا شروع، پاکستان آنیوالے ہر کنٹینر پر 2 ہزار ڈالر تک اضافی چارجز




