اسلام آباد: مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اچانک تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق عراقی سمندری حدود کے قریب دو بین الاقوامی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد عالمی سطح پر تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے۔ اس صورتحال کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ گئیں۔
ماہرین کے مطابق قیمتوں میں اس اضافے کے اثرات پاکستان سمیت دیگر ممالک پر بھی پڑ سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں آئندہ دنوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ادھر وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کا عندیہ دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے ایک اجلاس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ وزیر اعظم کی ہدایات پر ہم بچت اور کفایت شعاری کر رہے ہیں مگر آنے والے دنوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا، پاکستان میں پانچ ریفائنری پلانٹس ہیں اور وہ پرانے ہیں، سعودی عرب کی جانب سے کروڈ آئل پاکستان کو دیا جا رہا ہے جس میں پاکستان کو ریٹس پر رعایت دی گئی لیکن ہمارے تیل کے دو جہاز آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے ہیں۔
اجلاس میں کمیٹی رکن فاروق ایچ نائیک نے معاملہ اٹھایا کہ ’پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے کس کو فائدہ پہنچایا گیا؟ پاکستان میں غریب طبقہ 55 روپے اضافہ برداشت نہیں کر سکتا‘، اس اس پر پٹرولیم ڈویژن حکام نے کہا کہ یکم مارچ کو ڈیزل کا ریٹ 88 ڈالر فی بیرل اور 6 مارچ کو 149 ڈالر پر پہنچا، جو کارگو 7 لاکھ ڈالر ملتا تھا وہ کارگو اب 70 لاکھ ڈالر کا ملتا ہے، ایل پی جی ایران سے آتی ہے اور پہلے سے زیادہ آ رہی ہے۔
دوسری طرف پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے فوری بعد پورٹ قاسم پر پیٹرول سے لدے جہاز پہنچے گئے ہیں، مجموعی طور پر تقریباً 25 کروڑ لیٹر پیٹرول سے لدے ہوئے 4 جہاز پورٹ قاسم پہنچے، ان میں سے ایک جہاز سے37 ہزار ٹن پیٹرول کی منتقلی مکمل کرلی گئی جب کہ ایک اور جہاز سے 50 ہزار ٹن پیٹرول کی ترسیل کا عمل جاری ہے۔




