برطانوی اخبار کا ایران سے جنگ بندی کیلئے امریکہ کے پاکستان پر سفارتی دباؤ ڈالنے کا دعویٰ

لندن: ایران سے جنگ بندی کیلئے امریکہ کی جانب سے پاکستان پر سفارتی دباؤ ڈالے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی سے قبل واشنگٹن نے پاکستان پر سفارتی دباؤ ڈالا تھا تاکہ تہران کو جنگ بندی پر آمادہ کیا جائے، امریکی صدر ٹرمپ ایک جانب ایران کے خلاف سخت بیانات دیتے رہے اور دعویٰ کرتے رہے کہ ایران معاہدے کے لیے بے تاب ہے لیکن دوسری جانب ان کی انتظامیہ پس پردہ جنگ بندی کے لیے سرگرم تھی۔
برطانوی اخبار نے دعویی کیا ہے کہ امریکہ کئی ہفتوں سے پاکستان سے رابطے میں تھا اور اس پر دباؤ ڈال رہا تھا کہ وہ ایران کو قائل کرے تاکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جائے اور خطے میں کشیدگی کم ہو، پاکستان نے ایک اہم ثالث کے طور پر کردار ادا کیا اور بطور مسلم اکثریتی ہمسایہ ملک ایران کو جنگ بندی پر آمادہ کرنے میں کامیابی حاصل کی، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں جاری بیک چینل سفارتکاری نے اہم پیشرفت ممکن بنائی، یہ سفارتی کوششیں اس وقت کامیاب ہوئیں جب منگل کی رات امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان سامنے آیا، جسے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی بڑی پیشرفت قرار دیا گیا۔
فنانشل ٹائمز نے رپورٹ میں کہا کہ اس پیشرفت سے چند گھنٹے قبل صدر ٹرمپ نے ایران کو سخت دھمکیاں دی تھیں جن میں تہذیب تباہ کرنے جیسے بیانات بھی شامل تھے، تاہم پس پردہ وہ جنگ بندی کے خواہاں تھے، تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور ایران کی غیر متوقع مزاحمت کے باعث ٹرمپ کم از کم 21 مارچ سے جنگ بندی کے حق میں تھے، جب انہوں نے ایران کے پاور پلانٹس کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی، بظاہر سخت بیانات کے باوجود سفارتی سطح پر جنگ کو روکنے کی سنجیدہ کوششیں جاری تھیں جن میں پاکستان کی جانب سے کلیدی کردار ادا کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں