واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی منصوبے پر ایران کا جواب ناقابل قبول قرار دے کر مسترد کردیا۔ اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ میں نے ایران کے نام نہاد نمائندوں کی جانب سے دیا گیا جواب پڑھا ہے، مجھے یہ بالکل پسند نہیں آیا، یہ مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔ اپنے ایک اور بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے اپنی سخت ترین رائے کا اظہار کرتے ہوئے باراک اوباما اور جو بائیڈن پر بھی کڑی تنقید کی، ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایران دہائیوں سے امریکہ کے ساتھ گیمز کھیل رہا ہے اور اپنی تاخیری حربوں سے بیوقوف بنا رہا ہے اور سابقہ انتظامیہ کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔
انہوں نے سابق صدر باراک اوباما کو ایران کے لیے “بہترین تحفہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اوباما نے اسرائیل اور دیگر اتحادیوں کو پسِ پشت ڈال کر ایران کا ساتھ دیا، ایران کو نئی زندگی دینے کے لیے اربوں ڈالر فراہم کیے گئے، جن میں جہازوں کے ذریعے تہران بھیجی گئی 1.7 بلین ڈالر کی نقد رقم بھی شامل تھی، واشنگٹن، ورجینیا اور میری لینڈ کے بینکوں سے اتنا پیسہ نکالا گیا کہ ایرانی حکام اسے دیکھ کر حیران رہ گئے اور انہیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اتنی بڑی رقم کا کیا کریں۔
امریکی صدر نے باراک اوباما کو ایک “تباہ کن لیڈر” قرار دیا، تاہم ان کے بقول جو بائیڈن کی قیادت اوباما سے بھی بدتر ثابت ہوئی، انہوں نے بائیڈن کو “سلیپی جو” کہتے ہوئے طنز کیا کہ ان کی کمزوری نے ایران کو مزید دلیر کر دیا ہے، گزشتہ 47 سالوں سے ایران امریکیوں کو “روڈ سائیڈ بموں” کے ذریعے نشانہ بنا رہا ہے، ایران نے احتجاج دبانے کے لیے حال ہی میں 42 ہزار نہتے اور معصوم مظاہرین کو ختم کیا، وہ ہمارے ملک کی حالت پر ہنستے رہے ہیں، لیکن اب وہ مزید نہیں ہنس پائیں گے، امریکہ اب ایران کے ان کھیلوں کا خاتمہ کرے گا اور ایران کو مزید یہ موقع نہیں ملے گا کہ وہ امریکہ کا مذاق اڑائے۔
ٹرمپ نے ایران کا جواب ناقابل قبول قرار دے کر مسترد کردیا




