لندن:برطانیہ کی وزیرِ داخلہ شبانہ محمود نے بدنامِ زمانہ ‘روچڈیل گرومنگ گینگ’ کے سرغنہ شبیر احمد کی پاکستان بے دخلی کی راہ ہموار کرنے کے لیے امیگریشن قوانین میں بڑی تبدیلیاں لانے کا اعلان کردیا، دوسری جانب برطانوی حکومت نے واضح کیا ہے کہ اگر پاکستان نے اس مجرم کو واپس لینے سے انکار کیا تو اسے ویزہ پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق ہوم سیکریٹری شبانہ محمود نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ وہ ‘امیگریشن اینڈ اسائیلم بل’ میں ایک اہم ترمیم متعارف کروا رہی ہیں، اس ترمیم کے تحت 1971ء کے امیگریشن ایکٹ کے سیکشن 7 کے تحت حاصل اس تحفظ کو ختم کر دیا جائے گا جو طویل عرصے سے برطانیہ میں مقیم کسی بھی غیر ملکی سنگین مجرموں کو بے دخلی سے بچاتا ہے۔
شبانہ محمود کا کہنا تھا کہ ہماری ترمیم ہوم سیکریٹری کو یہ نیا اختیار دے گی کہ وہ سنگین مجرموں کے لیے سیکشن 7 کا اطلاق ختم کر سکیں، یہ سیکشن طویل مدتی برطانوی رہائشیوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے، لیکن واضح طور پر اسے شبیر احمد جیسے گھناؤنے مجرموں کی ملک بدری کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے، قانون میں تبدیلی کے باوجود وہ شبیر احمد کو تب تک ڈی پورٹ نہیں کرسکتے جب تک پاکستان اس مجرم کو واپس لینے پر رضامند نہ ہو۔
برطانوی آن لائن اخبار انڈیپنڈنٹ نے رپورٹ کیا ہے کہ برطانوی حکومت نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے ویزہ پابندیوں کا آپشن استعمال کیا جا سکتا ہے، برطانوی وزیرِ اعظم کے سرکاری ترجمان نے واضح کیا کہ قانون تبدیل کرنا شبیر احمد کی بے دخلی کا صرف پہلا قدم ہے، اصل ملک کا ان گھناؤنے مجرموں کو واپس لینے پر راضی ہونا ضروری ہے، اسی لیے ہم حکومت کے تمام شعبوں کے ساتھ مل کر ہر ممکن آپشن کا جائزہ لے رہے ہیں۔
جب ترجمان سے پوچھا گیا کہ ’کیا اس میں پاکستانی شہریوں کے لیے ویزے جاری کرنے سے انکار کا امکان بھی شامل ہے؟‘ تو انہوں نے جواب دیا کہ جب کوئی ملک اپنے شہریوں کی واپسی پر تعاون نہیں کرتا تو ہمارے لیے تمام آپشنز میز پر ہوتے ہیں‘۔ برطانیہ کی وزیر برائے متاثرین کیتھرین اٹکنسن نے بی بی سی ریڈیو 4 سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ویزہ پابندیوں کی دھمکی ماضی میں بھی کارگر ثابت ہو چکی ہے، ہوم سیکریٹری نے اس سے قبل انگولا، نمیبیا اور جمہوریہ کانگو کو غیر قانونی تارکینِ وطن واپس نہ لینے پر ویزہ پابندیوں کی دھمکی دی تھی، جس کے محض چار ماہ بعد ان تینوں ممالک نے برطانیہ کے ساتھ مکمل تعاون شروع کر دیا تھا۔
اس ضمن میں دی ٹیلیگراف نے اطلاع دی ہے کہ پاکستان کی جانب سے شبیر احمد کو اتنی آسانی سے قبول کیے جانے کی توقع نہیں ہے، برطانوی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پاکستان اس مجرم کو واپس لینے کے بدلے میں برطانیہ سے اپنے چند اہم مطلوب سیاسی مخالفین کی پاکستان حوالگی کا مطالبہ کر رہا ہے، جس نے اس معاملے کو ایک پیچیدہ سفارتی رنگ دے دیا ہے، پاکستان نے برطانیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر وہ بچوں کے استحصال کے نیٹ ورک راچڈیل گرومنگ گینگ کے سرغنہ شبیر احمد کی پاکستان منتقلی چاہتا ہے تو اسے برطانیہ میں مقیم پاکستانی سیاسی باغیوں اور مفروروں کو پاکستان کے حوالے کرنا ہوگا۔
اس پر دی ٹیلیگراف سے بات کرتے ہوئے پاکستانی عہدیدار نے شکوہ کیا کہ کچھ لوگ برطانوی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے برطانوی سرزمین کو پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کیلئے استعمال کر رہے ہیں، لیکن یوکے حکومت ان کے خلاف کچھ نہیں کر رہی اور انسانی حقوق و آزادیٔ اظہارِ رائے کا دوہرا معیار اپناتی ہے، جبکہ برطانیہ کی جانب سے پسِ پردہ یہ دھمکیاں دی گئیں کہ اگر پاکستان نے شبیر احمد کو قبول نہ کیا تو پاکستان پر ویزہ پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں اور غیر ملکی امداد میں کٹوتی کی جا سکتی ہے، اس پر پاکستانی عہدیدار نے واضح کیا کہ ’یہ وہ پاکستان نہیں ہے جس سے آپ چند سال پہلے نمٹ رہے تھے، یہ ایک بالکل مختلف حکومت ہے جو کسی صورت بلیک میل نہیں ہوگی اور دباؤ کی پالیسی کے کوئی نتائج برآمد نہیں ہوں گے‘۔




