برطانیہ میں شدید گرمی سے صرف دوماہ میں 2 ہزار 700 سے زائد اموات

لندن : امپیریل کالج لندن، برطانوی محکمہ موسمیات اور لندن اسکول آف ہائیجین اینڈ ٹروپیکل میڈیسن کے ماہرین کی ایک حالیہ مشترکہ تحقیق میں یہ سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے کہ مئی اور جون کے مہینوں میں ریکارڈ توڑ گرمی کی لہروں کے باعث انگلینڈ اور ویلز میں اندازاً 2 ہزار 700 سے زائد افراد لقمۂ اجل بن گئے، ان اموات میں سے 42 فیصد براہِ راست انسانی سرگرمیوں خصوصاً کوئلہ، تیل، گیس جلانے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اضافی گرمی اور موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ ہیں۔
اسکائی نیوز کے مطابق ایک حالیہ تحقیق میں پتہ چلا ہے کہ مئی کے دوران صرف 9 دنوں کی شدید گرمی میں اندازاً 550 افراد ہلاک ہوئے، ان میں سے 59 فیصد تقریباً 327 اموات کا براہِ راست تعلق کلائمٹ چینج سے تھا، جب کہ جون کے وسط میں 11 دنوں تک برقرار رہنے والی ہیٹ ویو مزید ہلاکت خیز ثابت ہوئی، جہاں 2 ہزار 200 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، ان میں سے 38 فیصد تقریباً 825 اموات کلائمٹ چینج کی وجہ سے تھیں۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جون کی ہیٹ ویو کے دوران ہوا میں نمی کا تناسب انتہائی زیادہ تھا، جس نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا کیونکہ زیادہ حبس کی وجہ سے انسانی جسم پسینے کے ذریعے خود کو ٹھنڈا کرنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی سرگرمیوں کے بغیر گرمی کی ایسی شدت اور خاص طور پر رات کے وقت کا اتنا ہائی ٹمپریچر ہونا ممکن نہین تھا، کلائمٹ چینج کی وجہ سے دن کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت معمول سے 3 سے 4 ڈگری سینٹی گریڈ تک زیادہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
امپیریل کالج لندن کی ریسرچ ایسوسی ایٹ ڈاکٹر کلیئر بارنز نے معاملے کی سنگینی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہم سب دھوپ کو پسند کرتے ہیں، لیکن لوگوں کو اب یہ سمجھنا ہوگا کہ کلائمٹ چینج سے چلنے والی یہ خطرناک گرمی معصوم لوگوں کی جانیں لے رہی ہے، اسکولوں اور ہسپتالوں کے نظام کو متاثر کر رہی ہے اور ٹرانسپورٹ و انفراسٹرکچر کو بند کر رہی ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ ہم اب ایک ایسے ملک میں رہ رہے ہیں جہاں کی گرمیاں خطرناک حد تک گرم ہو چکی ہیں، مستقبل کی تباہی سے بچنے کے لیے ہمیں ہنگامی بنیادوں پر کاربن کے اخراج کو صفر پر لانے کے لیے عالمی کوششیں تیز کرنا ہوں گی۔
ماہرین نے کہا ہے کہ اگرچہ جنوبی انگلینڈ میں درجہ حرارت سب سے زیادہ دیکھا گیا، لیکن اموات کی شرح مڈلینڈز کے علاقوں میں بھی اتنی ہی زیادہ رہی، اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ شمالی علاقوں کے لوگ ماضی میں شدید گرمی کے عادی نہیں رہے، جس کی وجہ سے وہ گرمی کے ان مہلک اثرات کے سامنے زیادہ کمزور ثابت ہوئے، اس صورتحال میں برطانوی حکومت بوڑھے افراد، نوزائیدہ بچوں اور بیماروں کو بچانے کے لیے گھروں، دفاتر اور ہسپتالوں کے بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں