پاکستان لیبیا میں متحارب گروپوں کے درمیان ثالثی کیلئے متحرک

اسلام آباد : پاکستان نے لیبیا کے متحارب مشرقی اور مغربی پاور سینٹرز کے درمیان ثالثی کا عمل شروع کر دیا۔ عالمی نیوز ایجنسی رائٹرز کے مطابق پاکستانی ذرائع نے بتایا ہے کہ یہ ایک ایسی سفارتی کوشش ہے جس کے متعلق پہلے کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی تھی اور اگر یہ کوشش کامیاب ہو جاتی ہے تو اس سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا سفارتی پروفائل مزید بلند ہو جائے گا۔
بتایا گیا ہے کہ لیبیا 2011ء میں نیٹو کی حمایت یافتہ بغاوت کے نتیجے میں معمر قذافی کا تختہ الٹنے کے بعد شروع ہونے والی خانہ جنگی کے باعث مشرقی اور مغربی انتظامیہ کے درمیان تقسیم چلا آ رہا ہے، گزشتہ کئی ماہ سے اس معاملے پر امریکی قیادت میں سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں مانیٹر کی جا رہی تھیں، جس کے بعد اب پاکستان کا کردار سامنے آیا ہے۔
ایک پاکستانی ذرائع نے محتاط انداز میں بتایا کہ اس وقت جس تجویز پر تفصیلی بات چیت جاری ہے، اس کے تحت لیبیا میں ایک عبوری دور قائم کیا جائے گا، اس فارمولے کے تحت اقوامِ متحدہ سے تسلیم شدہ اور مغرب پر مبنی لیبیا کی ‘گورنمنٹ آف نیشنل یونٹی’ کے عبدالحمید دبیبہ وزیرِ اعظم ہوں گے، مشرقی حصے پر مبنی ‘لیبین نیشنل آرمی’ کے ڈپٹی کمانڈر صدام حفتر کو صدارتی کونسل کا چیئرمین بنایا جائے گا۔
معلوم ہوا ہے کہ صدام حفتر کے والد خلیفہ حفتر جو کہ ایل این اے کے کمانڈر ان چیف ہیں، ان کا دھڑا لیبیا کے کئی بڑے تیل کے ذخائر اور اہم ترین انفراسٹرکچر پر کنٹرول رکھتا ہے، اس مجوزہ منصوبے کے تحت بجٹ کے تمام اختیارات خلیفہ حفتر کو سونپ دیئے جائیں گے، ایک پاکستانی سورس کا کہنا ہے کہ پاکستان اس بات کو یقینی بنانے کے لیے فعال کردار ادا کرے گا کہ یہ سارا انتظام برقرار رہے، تاہم اس کی مزید تفصیلات پر اب بھی کام جاری ہے۔
بتایا جارہا ہے کہ گذشتہ ماہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے راولپنڈی میں صدام حفتر سے ملاقات کی تھی، اس ملاقات کے چند ہی دن بعد صدام حفتر نے واشنگٹن کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی، امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے اس وقت اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ سیکریٹری مارکو روبیو نے لیبیا کے رہنماؤں کی جانب سے اختلافات ختم کرنے کی کوششوں کا خیرمقدم کیا ہے اور لیبیا کی یکجہتی کے لیے امریکی حمایت کا اعادہ کیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ تجزیہ کار پاکستان کو لیبیا کے معاملے میں ایک ثانوی فریق کے طور پر دیکھتے ہیں، جہاں امریکہ، متحدہ عرب امارات، ترکی اور مصر برسوں سے اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کے لیے کوشاں ہیں، لیکن اس کے باوجود اسلام آباد نے دونوں متحارب فریقین کے ساتھ ایسے تعلقات برقرار رکھے ہیں جو شاید دیگر علاقائی ممالک کے پاس نہیں ہیں۔
رائٹرز نے گزشتہ سال دسمبر میں رپورٹ کیا تھا کہ پاکستانی حکام نے اقوامِ متحدہ کی اسلحہ پابندی کے باوجود مشرقی حصے پر مبنی ایل این اے کے ساتھ دفاعی روابط بڑھائے ہیں، جس میں جے ایف 17 فائٹر جیٹس اور سپر مشاق تربیتی طیاروں کی ممکنہ فروخت شامل ہے، ایک غیر رپورٹ شدہ دستاویز کے مطابق حریف مغربی ‘گورنمنٹ آف نیشنل یونٹی’ نے بھی حال ہی میں پاکستان کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی خواہش ظاہر کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں