زیارت : صوبہ بلوچستان میں گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران دہشت گردی کا دوسرا بڑا واقعہ پیش آیا ہے، جہاں ضلع زیارت کے علاقے کچھ مانگی میں دہشتگردوں نے پولیس کو نشانہ بنایا، اس حملے کے نتیجے میں 9 پولیس اہلکار جامِ شہادت نوش کرگئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق دہشت گردوں اور پولیس کے درمیان گزشتہ رات سے ہی شدید فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا، پولیس کے بہادر اہلکار رات بھر ان دہشت گردوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑے رہے اور مقابلہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا، ڈپٹی کمشنر زیارت نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دہشت گردوں نے کچھ مانگی فیز تھری میں پولیس پر حملہ کیا، تمام شہید ہونے والے 9 اہلکاروں کی لاشوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال زیارت منتقل کر دیا گیا۔
بتایا گیا ہے کہ بلوچستان میں گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران یہ دوسرا بڑا حملہ ہے، اس سے قبل پہلا حملہ کوئٹہ کے قریبی علاقے ہنہ اوڑک میں کیا گیا تھا، جہاں مقامی قبائلیوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بہادری سے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا، تاہم اس جھڑپ میں 4 مقامی لوگ جان سے گئے جبکہ دہشت گرد سکیورٹی اہلکاروں سمیت 7 افراد کو اغواء کرکے اپنے ساتھ لے گئے۔
معلوم ہوا ہے کہ یہ تمام مغوی افراد مانگی ڈیم کی ایک زیر تعمیر ٹینکی پر ڈیوٹی کے لیے تعینات تھے، جہاں نامعلوم مسلح افراد نے آ کر انہیں یرغمال بنایا اور اٹھا کر لے گئے، خوش قسمتی سے 5 مغوی افراد اغواء کاروں کے چنگل سے کسی طرح بھاگنے میں کامیاب ہو گئے، باقی ماندہ مغویوں کو بحفاظت بچانے اور دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے پولیس نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا۔
دوسری جانب اس اغواء اور حملے کے بعد پورے علاقے کے شہریوں میں شدید غصہ اور تشویش پھیل گئی، ہنہ اوڑک واقعے کے خلاف مقتولین کے لواحقین اور مقامی لوگ اب بھی کوئٹہ کے ایئرپورٹ روڈ پر دھرنا دیئے بیٹھے ہیں اور سراپا احتجاج ہیں، احتجاج کا دائرہ مزید پھیل گیا ہے اور ضلع پشین کے علاقے زیارت کراس پر شہریوں نے احتجاجاً قومی شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بلاک کر دیا، مظاہرین کا حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے پرزور مطالبہ ہے کہ اغواء کیے گئے تمام افراد کو فوری اور باحفاظت بازیاب کرایا جائے۔




