پاک ایران سفارتی رابطوں سے قطر سے ایل این جی کی پاکستان منتقلی ممکن ہوگئی

اسلام آباد : شدید توانائی بحران، ایندھن کی شارٹ فال اور گیس لوڈشیڈنگ کے شکار پاکستان کے لیے ایک اہم اور بڑی خبر سامنے آئی ہے کہ پاک ایران سفارتی رابطوں سے قطر سے ایل این جی کی پاکستان منتقلی ممکن ہوگئی۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے ’بلومبرگ‘ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے ایران کے ساتھ کامیاب سفارتی مذاکرات اور بیک ڈور رابطوں کے ذریعے مائع قدرتی گیس یعنی ایل این جی کے کارگو کی بحفاظت منتقلی کے لیے عالمی تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے محفوظ راستہ حاصل کرلیا۔
شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایل این جی کا یہ بڑا ٹینکر قطر کی مشہور راس لفان تنصیب سے جون کے آخری ایام میں روانہ ہوا تھا، جس نے ایران کے ساتھ ہونے والی سفارتی پیشرفت کے بعد گزشتہ اختتامِ ہفتہ پر انتہائی حساس اور اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو کامیابی کے ساتھ عبور کرلیا، جہاز سے موصول ہونے والے جدید ترین سگنلز کے مطابق ایل این جی کا یہ کارگو منگل کے روز پاکستان کے پورٹ قاسم یا متعین امپورٹ ٹرمینل پر پہنچ کر لنگر انداز ہو جائے گا۔
باخبر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا جارہا ہے کہ اس اہم ترین کارگو کی خطے کی اہم آبی گزرگاہ سے بحفاظت منتقلی کے لیے دونوں ممالک کے اعلیٰ حکومتی و سفارتی حکام کے درمیان باقاعدہ گفتگو اور مذاکرات ہوئے تھے، اس بات چیت میں طے پانے والے نکات کے نتیجے میں ہی قطر سے ایل این جی کی رواں ماہ کی یہ دوسری کامیاب ترسیل ممکن ہو سکی ہے، یہ مذاکرات اور رابطے خفیہ اور غیر سرکاری سطح پر تھے تاکہ خطے کی جغرافیائی و سیاسی صورتحال کے اثرات سے محفوظ رہا جا سکے۔
خیال رہے کہ پاکستان طویل عرصے سے توانائی کے شدید شارٹ فال، ایل این جی کی درآمدی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور ملکی سطح پر صنعتی و گھریلو گیس کی فراہمی میں بدترین تعطل کا سامنا کر رہا ہے، ایسے سنگین معاشی و توانائی بحران کے دوران پاک ایران سفارتی رابطوں کے نتیجے میں قطر سے آنے والے ایل این جی کارگو کا محفوظ راستہ حاصل کرنا ملک میں بجلی اور گیس کی پیداوار کو سہارا دینے کے لیے ایک بڑی اور وقتی راحت قرار دیا جا رہا ہے، اس کارگو کی وقت پر آمد سے پاکستان میں ایندھن کے بڑھتے ہوئے بحران اور پاور سیکٹر کو درپیش گیس کی شدید کمی پر قابو پانے میں نمایاں مدد ملے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں