فورسز کے ساتھ کھڑی نہ ہونے والی سیاسی جماعتیں مائنس ہو جائیں گی، رانا ثناء اللہ

اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور اور سینئر سیاستدان سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خاتمے کے قومی ایجنڈے پر خلوصِ نیت کے ساتھ سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی نہ ہونے والی کوئی بھی سیاسی جماعت ملکی سیاسی منظر نامے سے مائنس ہو جائے گی۔
جیو نیوز کے پروگرام میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے ملک کی موجودہ سیاسی و سکیورٹی صورتحال پر کھل کر خیالات کا اظہار کیا، انہوں نے بتایا کہ خیبرپختونخواہ کے گورنر کی جانب سے دہشتگردی کے خلاف اقدامات اور سکیورٹی امور کے لیے 160 ارب روپے کے فنڈز کا تقاضا کیا گیا تھا، جسے وزیراعظم نے فوری طور پر منظور کرلیا، کیوں کہ حکومت کی اولین ترجیح خیبرپختونخواہ سمیت پورے ملک سے دہشتگردی کا قلع قمع کرنا ہے، اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑے بغیر عام عوام کی زندگیوں کو بہتر اور معیشت کو مستحکم نہیں کیا جا سکتا۔

وفاقی مشیر نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ دہشتگردی کے خاتمے کا قومی ایجنڈا اس وقت ملک کی سب سے بڑی ضرورت ہے، اور جو بھی سیاسی جماعت یا عناصر اس ایجنڈے کا خلوصِ دل سے حصہ نہیں بنیں گے اور سکیورٹی فورسز کا ساتھ نہیں دیں گے، وہ خود بخود سیاسی منظر نامے سے باہر یعنی مائنس ہو جائیں گے، اس لیے دہشتگردی کے خلاف پوری قوم کو تمام سیاسی اختلافات پسِ پشت ڈال کر ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونا ہوگا۔
پروگرام کے دوران جب ان سے حالیہ آئینی ترامیم کے حوالے سے سوال کیا گیا تو اس کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ اس وقت ملک میں کسی بھی 28 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے نہ تو کوئی باضابطہ بات چیت ہوئی ہے اور نہ ہی اس کا کوئی مسودہ سامنے آیا ہے، اس حوالے سے تمام افواہوں کو مسترد کرتے ہیں، اس وقت حکومت کی تمام تر توجہ صرف اور صرف ملک سے امن و امان کی بحالی اور دہشتگردی کے مکمل خاتے پر مرکوز ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں