واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن ایران کے معاملے کو مزید طویل نہیں کھینچنا چاہتا اور تہران کو ہر صورت امریکہ کے ساتھ نیا معاہدہ کرنا ہوگا، بصورتِ دیگر امریکہ خود اس تنازع کو جلد اپنے انجام تک پہنچا دے گا۔
امریکی میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس امریکہ کے ساتھ نیا معاہدہ کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا، ایران کے ساتھ مذاکرات ایک اچھے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں لیکن ایرانی حکام معاہدہ کرتے ہیں اور بعد میں اس سے مکر جاتے ہیں، اسی لیے ان پر زیادہ بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ جنگ کے بجائے لوگوں کی قیمتی جانیں بچانے اور انسانی ضیاع کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم اگر تہران کا رویہ غیر لچکدار رہا تو ایک ایسا مرحلہ آ سکتا ہے جہاں سخت اور ناگزیر فوجی کارروائی کرنا لازمی ہو جائے گی۔
انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ ان کی اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو سے ایران کی صورتحال اور جاری مشترکہ حکمتِ عملی پر انتہائی مفصل اور اچھی گفتگو ہوئی ہے، امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ یا تنازع زیادہ عرصے تک قائم نہیں رہے گا اور اس کے جلد ختم ہونے کی توقع ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی معاشی و توانائی کی طاقت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا میں سب سے زیادہ تیل اس وقت امریکہ کے پاس موجود ہے، جبکہ کینیڈا کے ساتھ تجارتی معاہدے کے حوالے سے مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں اور دونوں ممالک معاہدے کے کافی قریب پہنچ چکے ہیں۔
دوسری طرف ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ دوست ممالک امریکہ کو نئی جنگ سے روکنے میں کردار ادا کریں، جنگ کی حوصلہ افزائی کے بجائے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی جائے، ایران نے خلیجی ہمسایہ ممالک کو نہیں بلکہ صرف امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا، خطے کے ممالک کو آگاہ کیا تھا حملے کی صورت میں خطے میں امریکی اڈے نشانہ ہوں گے، ایران نے امریکی حملے کی صورت میں جوابی کارروائی سے متعلق پیشگی اطلاع دی تھی، خلیجی ممالک میں ایرانی میزائلوں کے گرنے کی ذمہ داری ایران پر نہیں ہے۔
ایران کو معاہدہ کرنا ہوگا ورنہ امریکہ جلد معاملہ نمٹا دے گا، ٹرمپ




