واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وینزویلا سے 30 سے 50 ملین بیرل تیل جلد امریکہ منتقل کیا جائے گا، اس تیل کو مارکیٹ ریٹس پر فروخت کیا جائے گا اور وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ اس رقم کا استعمال وینزویلا اور امریکا کے لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے کیا جائے۔ اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ وینزویلا سے یہ تیل اسے ذخیرہ کرنے والے جہازوں کے ذریعے براہ راست امریکہ لایا جائے گا، وزیر توانائی کرس رائٹ کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس منصوبے کوفوری طور پر نافذ کریں، امریکی آئل کمپنیز وینزویلا کے زوال پذیر انفرا سٹرکچر کی تعمیر نو اور اس کے تیل کے ذخائر سے فائدہ اٹھانے کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے پر تیار ہیں۔
امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکہ کی تین بڑی آئل کمپنیز Chervon، Exxon Mobil اور ConocoPhillips کے نمائندے وینزویلا پر بات چیت کے لیے جمعہ کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کرنے والے ہیں، تیل کی عالمی کھپت اس وقت 100 ملین بیرل یومیہ سے زیادہ جب کہ امریکہ میں خام تیل کی پیداوار تقریباً 14 ملین بیرل یومیہ ہے، امریکی صدر نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ 30 سے 50 ملین بیرل تیل کتنی مدت میں امریکہ منتقل کریں گے، تاہم تیل کی یہ مقدار وینزویلا میں تیل کی ایک ماہ کی پیداوار کے برابر ہے۔
بتایا جارہا ہے کہ امریکی صدر وینزویلا کے تیل کے ذخائر کو واپس لینے اور وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے ان کی انتظامیہ کے اغواء کے تناظر میں لاطینی امریکی ملک کی کمزور توانائی کی صنعت کو بحال کرنے کا پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں، اس ضمن میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وینزویلا میں تیل کی پیداوار کو اس کی 1990ء کی دہائی کے 3 ملین بیرل یومیہ کی بلند ترین سطح پر لے جانے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی اور اس میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا وینزویلا سے 30 سے 50 ملین بیرل تیل جلد امریکہ منتقل کرنے کا اعلان




