واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ دنیا بھر کے ممالک پر فوجی طاقت کے استعمال کا اختیار رکھتا ہوں، بین الاقوامی قوانین یا دیگر ضوابط میرے فیصلوں میں رکاوٹ نہیں بن سکتے، بطور کمانڈر اِن چیف میرے اختیارات کو صرف میری اپنی اخلاقیات اور سوچ محدود کرتی ہے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو انٹرویو کے دوران جب ڈونلڈ ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ ’کیا ان کی عالمی طاقت پر کوئی حد لاگو ہوتی ہے؟‘ انہوں نے جواب دیا کہ ’ہاں! ایک چیز ہے، میری اپنی اخلاقیات اور میرا اپنا دماغ یہی واحد چیز ہے جو مجھے روک سکتی ہے، ورنہ مجھے بین الاقوامی قانون کی ضرورت نہیں کیونکہ میں کسی کو نقصان پہنچانے کا خواہاں نہیں ہوں۔
امریکی صدر نے کہا کہ ہماری انتظامیہ بین الاقوامی قوانین کی پابندی کرتی ہے لیکن یہ فیصلہ ہم خود کریں گے کہ یہ پابندیاں امریکہ پر کب اور کیسے لاگو ہوں گی، یہ اس بات پر منحصر ہے کہ آپ بین الاقوامی قانون کی تعریف کیا کرتے ہیں، فوجی، معاشی اور سیاسی طاقت کے تمام ذرائع استعمال کرکے امریکی برتری کو یقینی بنانا ان کی ترجیح ہے، گرین لینڈ میں 1951ء کے معاہدے کے تحت امریکی فوجی اڈے دوبارہ کھولنا کافی نہیں بلکہ اس خطے کی ملکیت انتہائی اہم ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ملکیت ایسی صلاحیتیں فراہم کرتی ہے جو محض لیز یا معاہدے سے حاصل نہیں کی جا سکتیں، گرین لینڈ کا حجم ٹیکساس سے تین گنا بڑا ہے جبکہ وہاں کی آبادی 60 ہزار سے بھی کم ہے اور اس کا کنٹرول کسی نیٹو اتحادی کے پاس ہونا ہمارے نزدیک کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا، یورپی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں لیکن انہیں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی، اگر امریکہ نہ ہوتا تو روس اس وقت پورے یوکرین پر قابض ہو چکا ہوتا۔
دنیا بھر کے ممالک پر فوجی طاقت کے استعمال کا اختیار رکھتا ہوں، ٹرمپ




