لاہور : پنجاب حکومت نے پراپرٹی اونرشپ ایکٹ میں ترمیم کرکے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم کے ساتھ جاری سرد جنگ ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ پنجاب حکومت کی جانب سے پراپرٹی اونر شپ ایکٹ میں ترمیم لانے کے لیے رضامندی ظاہر کی گئی ہے کیوں کہ لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب پراپرٹی اونر شپ آرڈیننس کے خلاف آنے والی درجنوں درخواستوں کے بعد اس پر حکم امتناع جاری کیا تھا، جس پرپنجاب حکومت نے اس معاملے کو حل کرنے کے لئے ایک اعلی سطح کی قانونی کمیٹی تشکیل دی، اس اعلیٰ سطح کی قانونی کمیٹی کی سربراہی ایڈووکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز کر رہے ہیں، کمیٹی مین سیکرٹری قانون پنجاب سمیت دیگر ماہرین اقدامات کررہے ہیں، کمیٹی نے عدلیہ اور وکلا کے اعتراضات کے مطابق قانون میں ترامیم تیار کر لی ہیں۔
اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی مجوزہ ترامیم میں ریٹائرڈ سیشن ججز پر مشتمل ٹربیونل ختم کرکے حاضر سروس ایڈیشنل سیشن ججز کو بطور ٹربیونل کو مقرر کیا جائے گا، قبضے سے متعلق ضلعی کمیٹیوں کو درخواستیں بھیجنے کا اختیار سول جج کو دیا جائے گا، کمیٹی براہ راست زیر التوا کیسز پر فیصلہ نہیں کر سکے گی، مجوزہ ترامیم کی روشنی میں پراپرٹی اونر شپ ایکٹ کے تحت درخواست کی سماعت کا فیصلہ سول جج کرے گا، اس ترمیم کے بعد ایسے کیسز جو پہلے ہی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اور ان میں درخواست گزاروں نے ناجائز قبضہ کیے جانے کو درخواست کا حصہ بنایا ہے۔
حکومتی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ان درخواستوں کو ضلعی کمیٹیوں کے پاس بھیجنے کا اختیار سول جج کے پاس ہوگا، جس کا مطلب ہے کہ درخواست براہ راست انتظامی کمیٹی کو نہیں دی جا سکے گی، اس سے پہلےکمیٹی کے کنوینیر کو درخواست دائر کرکے سول عدالت کو کیس کمیٹی کو واپس بھیجنے کا کہا گیا تھا تاہم نئی ترمیم کے مطابق دونوں میں سے ایک فریق خود سول عدالت میں کیس کمیٹی کے پاس بھیجنے کی درخواست کرے گا جس کے بعد سول جج کے پاس اختیار ہوگا کہ وہ کیس کو کمیٹی کے پاس بھیجے گا یا نہیں۔
بتایا جارہا ہے کہ حکومت ٹریبیونلز کیلئے حاضر سروس ایڈیشنل سیشن ججز کی خدمات لے گی، اس سے پہلے ٹریبیونلز کی سربراہی ریٹارئرڈ ججز کو دی گئی تھی، ریٹائرڈ سیشن ججز پر مشتمل ٹربیونل کو ختم کردیا جائے گا، ٹربیونل کے عبوری حکم کیخلاف ہائیکورٹ سے رجوع کیا جاسکے گا، اس سے پہلے قانون میں ہائیکورٹ کو یہ اختیار نہیں دیا گیا تھا، نئی مجوزہ ترامیم میں جوڈیشل ریویو شامل کر کے پنجاب حکومت اپنے موقف سے پیچھے ہٹ گئی ہے، نئی ترامیم میں عدلیہ اور وکلا تنظیموں کو بھی آن بورڈ لیا جا رہا ہے، ان ترامیم کی تمام فریقین کی منظوری کے بعد عدلیہ اور حکومت کے مابین کشمکش کا تاثر ختم ہو جائے گا، ترمیمی مسودے کو جلد حتمی شکل دیکر پراپرٹی اونرشپ ایکٹ میں ترمیم کی جائیں گی۔
لاہور ہائیکورٹ کے اعتراضات پر پنجاب حکومت کا پراپرٹی اونرشپ ایکٹ میں ترمیم کرنے کا فیصلہ




