وفاقی حکومت کا بجلی کے بنیادی ٹیرف میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد : وفاقی حکومت کی جانب سے بجلی کے صارفین کو ریلیف دیتے ہوئے اوسط بنیادی ٹیرف میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت نے بجلی کے اوسط بنیادی ٹیرف میں رد و بدل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس ضمن میں ایڈیشنل سیکرٹری پاور ڈویژن نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی یعنی نیپرا میں سماعت ہوئی جہاں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ سبسڈی کو ایڈجسٹ کر لیا گیا ہے جس کے بعد ٹیرف میں اضافے کی ضرورت باقی نہیں رہی، جولائی سے اب تک انرجی مکس میں نمایاں تبدیلی آئی ہے جس کے اثرات بجلی کی مجموعی لاگت پر پڑے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے صارفین پر اضافی بوجھ نہیں ڈالا جائے گا اور بجلی کے نرخ موجودہ سطح پر برقرار رکھے جائیں گے، مختلف کیٹیگریز کے صارفین کو مجموعی طور پر 629 ارب روپے کی سبسڈی دی جا رہی ہے، سال 2024ء میں بجلی کے شعبے کی مالی ضروریات 3 ہزار 768 ارب روپے تھیں، 2026ء کے لیے مالی ضروریات کا تخمینہ 3 ہزار 379 ارب روپے لگایا گیا ہے، انڈسٹریل کراس سبسڈی کو 225 ارب روپے سے کم کر کے 102 ارب روپے کردیا گیا ہے، بجلی کمپنیوں کی نااہلیوں کا بوجھ صارفین پر منتقل نہیں کیا جا رہا، نیا بلنگ سسٹم جلد شروع کیا جائے گا، جس سے نظام میں شفافیت آئے گی۔
اس کے علاوہ حکومت کی جانب سے کیپٹو پاور پلانٹس پر لیوی عائد کرنے کی منظوری دیدی گئی، بجلی صارفین کو جس کا فائدہ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے کیپٹو پاور لیوی عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے اور اس لیوی سے حاصل ہونے والا فائدہ بجلی صارفین کو منتقل کیا جائے گا، کیپٹو پاور پلانٹس پر لیوی عائد کرنے کا فیصلہ آئی ایم ایف کی شرط کے تحت نافذ کی جا رہی ہے، اس لیوی سے حاصل ہونے والی رقم براہِ راست بجلی صارفین کو ریلیف دینے کے لیے استعمال کی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں