پاکستان نے متحدہ عرب امارات سے 2.5 ارب ڈالر کے قرض کی 2سال کے لیے توسیع اور شرحِ سود تقریباً نصف کرنے کی درخواست کی ہے، جس میں وہ 450 ملین ڈالر کا قرض بھی شامل ہے جو 30 سال قبل ایک سال کے لیے حاصل کیا گیا تھا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق یہ درخواست اس عرصے میں کی گئی جب یو اے ای کے صدر ذاتی دورے پر پاکستان آئے تھے۔ یو اے ای کے صدر سے ملاقات کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ یو اے ای نے قرض رول اوور کرنے پر اتفاق کیا ہے، تاہم اس کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب عالمی بینک نے بھی جمعرات کو پاکستان کو آگاہ کیا کہ ملک میں سرمایہ کاری کی سطح 20 ارب ڈالر کے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (CPF) کے تحت طے شدہ اہداف سے کم ہے۔
اسٹیٹ بینک اور وفاقی حکومت کے ذرائع نے بتایا کہ پاکستان نے یو اے ای سے مجموعی طور پر 2.45 ارب ڈالر کے واجب الادا قرض کی توسیع کی درخواست کی ہے۔
ایک ارب ڈالر جمعے کو میچور ہو گیا جبکہ مزید ایک ارب ڈالر آئندہ ہفتے میچور ہو رہا ہے۔ذرائع کے مطابق ادائیگی کا کوئی امکان نہیں تھا کیونکہ یو اے ای کے صدر پہلے ہی توسیع پر رضامند ہو چکے ہیں تاہم یہ واضح نہیں کہ قرض ایک سال کے لیے رول اوور ہوا ہے یا دو سال کے لیے۔
مرکزی بینک کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے دو سالہ توسیع کے ساتھ شرحِ سود میں نصف سے زائد کمی کی بھی درخواست کی ہے۔
خبر فائل کیے جانے تک اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور وزارتِ خزانہ کی جانب سے جواب موصول نہیں ہوا تھا۔بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے کابینہ کو آگاہ کیا کہ دو ارب ڈالر کی ادائیگی واجب الادا تھی جسے یو اے ای نے بڑھانے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
یو اے ای نے 2018 میں پاکستان کو ایک سال کے لیے دو ارب ڈالر کا قرض دیا تھا، جو 16 ارب ڈالر کے سرکاری زرمبادلہ ذخائر کا حصہ ہے۔




