لاہور: پنجاب حکومت نے بسنت کی تین روزہ تقریبات کے موقع پر شہریوں کی حفاظت، ٹریفک کی روانی اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے جامع سکیورٹی اور سہولتی پلان کی منظوری دے دی ہے۔ اس منصوبے کے تحت سخت قانون نافذ کرنے کے ساتھ ساتھ عوام کو مفت پبلک ٹرانسپورٹ اور موٹر سائیکل سواروں کے لیے خصوصی حفاظتی اقدامات فراہم کیے جائیں گے۔
تفصیلات کے مطابق ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے شہریوں کو سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بسنت سے پہلے، دوران یا بعد میں غیر قانونی پتنگ بازی اور ہوائی فائرنگ میں ملوث افراد کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ تین روزہ بسنت کے دوران موٹر سائیکل سواروں کے لیے خصوصی حفاظتی پلان تیار کیا گیا ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق 6، 7 اور 8 فروری کو ہونے والی تقریبات کے دوران موٹر سائیکل سواروں میں 10 لاکھ حفاظتی تاریں تقسیم کی گئی ہیں، جو موٹر سائیکلوں کے اگلے حصے پر لگائی جائیں گی تاکہ پتنگ کی ڈور سے ہونے والے حادثات سے بچا ئوممکن بنایا جا سکے۔
پنجاب پولیس نے شہریوں کی سہولت کے لیے بسنت کے تینوں دن 6 ہزار خصوصی رکشے، 500 بسیں اور 60 ہزار آن لائن کار سروسز فراہم کرنے کا بھی انتظام کیا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پنجاب نے اعلان کیا ہے کہ بسنت کے دوران تمام پبلک ٹرانسپورٹ مفت ہوگی، جس میں سرکاری بسیں اور ایپ بیسڈ ٹیکسی سروسز بھی شامل ہیں۔محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق صوبے بھر میں پتنگ بازی پر پابندی بدستور برقرار ہے، جو پنجاب ریگولیشن آف کائٹ فلائنگ بل 2025 کے تحت نافذ ہے۔ تاہم روایتی بسنت میلے کے انعقاد کے لیے 6 سے 8 فروری تک محدود اجازت دی گئی ہے۔ مقررہ دنوں اور اوقات کے علاوہ پتنگ بازی کو غیر قانونی تصور کیا جائے گا۔




