لندن : پاکستانی عسکری قیادت کی جانب سے کیے جانے والے رابطوں کے ذریعے ایران اور امریکہ کو فوری جنگ بندی اور تنازعہ کے مستقل خاتمے کا منصوبہ پیش کردیا گیا۔ عالمی نیوز ایجنسی رائٹرز کے مطابق ایران اور امریکہ کو جنگ ختم کرنے کا ایک منصوبہ موصول ہوا ہے جو پیر سے نافذ العمل ہو سکتا ہے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول سکتا ہے، اس سلسلے میں باخبر ایک ذریعے نے بتایا کہ پاکستان کی طرف سے مشرق وسطیٰ کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے ایک فریم ورک تیار کیا گیا جس کا راتوں رات ایران اور امریکہ کے ساتھ تبادلہ ہوا، جس میں فوری جنگ بندی کے ساتھ دو سطحی نقطہ نظر کا خاکہ پیش کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں ایک جامع معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ تمام فریقین کے درمیان ممکنہ طور پر آج اتفاق ہوسکتا ہے، ابتدائی مفاہمت کو ایک یادداشت کے طور پر تشکیل دیا جائے گا جسے پاکستان کے ذریعے الیکٹرانک طور پر حتمی شکل دی جائے گی جو بات چیت میں واحد مواصلاتی چینل ہے، امریکہ، ایران اور علاقائی ثالث دو مرحلوں پر مشتمل معاہدے کے ایک حصے کے طور پر 45 دن کی ممکنہ جنگ بندی پر بات کر رہے ہیں جو جنگ کے مستقل خاتمے کا باعث بن سکتا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ اس سلسلے میں پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر رات بھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ رابطے میں رہے، اس دوران پیش کی جانے والی تجاویز کے تحت جنگ بندی فوری طور پر نافذ العمل ہوگی، جس سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جائے گا، وسیع تر تصفیے کو حتمی شکل دینے کے لیے 15 سے 20 دن ہوں گے، اس منصوبے کو عارضی طور پر “اسلام آباد ایکارڈ” کا نام دیا گیا ہے، جس میں آبنائے ہرمز کے لیے ایک علاقائی فریم ورک شامل ہوگا، اس ضمن میں اسلام آباد میں فریقین کی آمنے سامنے حتمی بات چیت ہوگی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس معاملے پر امریکی اور ایرانی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا جب کہ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بھی اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا، تاہم ایرانی حکام نے پہلے بتایا تھا کہ تہران اس ضمانت کے ساتھ مستقل جنگ بندی کا خواہاں ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ان پر دوبارہ حملہ نہ کریں، ایران کو پاکستان، ترکی اور مصر سمیت ثالثوں کے پیغامات موصول ہوئے، حتمی معاہدے میں ایران کی جانب سے پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی بحالی کے بدلے جوہری ہتھیاروں کے حصول نہ کرنے کے وعدے شامل ہونے کی توقع ہے۔
پاکستان نے ایران اور امریکہ کو فوری جنگ بندی کا جامع منصوبہ پہنچا دیا




