صدر ٹرمپ کا بھارتیوں پر غصہ برقرار، بھارت کو جہنم جیسی جگہ کہہ دیا، انڈین شہری تپ گئے

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بھارتیوں سے ناراضگی برقرار ہے اور اب انہوں نے بھارت کو جہنم جیسی جگہ کہہ دیا۔ اس حوالے سے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ آج کی بحث ان دلائل کے بارے میں ہوگی جو میں نے سپریم کورٹ کے سامنے پیدائشی حق شہریت کے بارے میں سنے، دلائل سن کر مجھے کچھ غصہ آیا کیونکہ میں نے جو کچھ سنا وہ قانونی طور پر پابندی لگا رہا تھا، اور میرے لیے کافی قابل توجہ یہ تھا کہ وہ شخص جو امریکہ کو غیر قانونی غیر ملکیوں کے ساتھ آباد کرنے کے حق میں دلائل پیش کرتا ہے تاکہ آبادی کو ہمیشہ کے لیے تبدیل کیا جا سکے وہ ایک چینی امریکی تھا، جو مجھے کلاسک اٹارنی کی طرح بہت ہوشیار، بہت شریر اور بہت منحرف لگتا ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ اٹارنی سانپ کا سر ہے، جو پھر سے امریکہ کو سیس پول میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے تھے، ہم سب جانتے ہیں کہ ان دلائل کو کمرہ عدالت کے خلاصہ کے طور پر بیان نہیں کیا جانا چاہئے، یہ واقعی قانون کے بارے میں نہیں ہے، یہ رائے عامہ کے بارے میں ہے، اب میں خود آئین کے بارے میں بحث شروع کرسکتا ہوں، ہم آئین میں ترمیم نہیں کرسکتے کیونکہ یہ پتھر پر لکیر ہے، اور اگر ہم ایسا کرتے ہیں، تو وہ ہماری پہلی اور دوسری ترمیم کو چھین لیں گے، جو وہ کریں گے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ تو یہی مسئلہ ہے، آئین ہوائی سفر سے پہلے لکھا گیا تھا، یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ٹیلی ویژن سے پہلے، انٹرنیٹ سے پہلے، ریڈیو سے پہلے، اور آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ جب لوگ حمل کے نویں مہینے میں ہوائی جہاز کے ذریعے یہاں آتے ہیں تو ان میں سے کچھ دلیلیں کتنی موزوں ہیں، یہاں ایک بچہ فوری طور پر شہری بن جاتا ہے اور پھر وہ پورے خاندان کو چین یا بھارت یا کرہ ارض پر کسی اور جہنم سے یہاں لاتے ہیں، یہاں اب انگریزی نہیں بولی جاتی کیوں کہ آج آنے والے تارکین وطن طبقے میں اس ملک کے لیے تقریباً کوئی وفاداری نہیں ہے۔


صدر ٹرمپ کے اس بیان پر بھارتی شہری تپ گئے، اپوزیشن جماعت کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا کہ انہیں یہ معاملہ امریکی صدر کے سامنے اٹھانا چاہیئے اور سخت احتجاج درج کروانا چاہیئے کیوں کہ امریکی صدر ٹرمپ نے بھارت کو ’ہیل ہول‘ قرار دیا ہے، ان کا یہ بیان انتہائی توہین آمیز اور بھارت مخالف ہے، اس سے ہر ہندوستانی کو تکلیف ہوئی ہے۔
کانگریس کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ بھارتی وزیراعظم کے اب تک کے ٹریک ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ صدر ٹرمپ کے سامنے اس معاملے پر کچھ کہیں گے کیوں کہ ٹرمپ بارہا بھارت کے بارے میں توہین آمیز ریمارکس کرچکے ہیں اور مودی خاموش رہے، نریندر مودی ایک کمزور وزیر اعظم ہیں، اور پورا ملک اس کا خمیازہ بھگت رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں