لندن : فنانشل ٹائمز کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر ایک فعال و غیر روایتی کردار کے ساتھ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدہ تعلقات میں بہتری لانے اور امن مذاکرات کو بچانے کی کوششوں میں نمایاں طور پر سامنے آئے ہیں۔ برطانوی جریدے کی رپورٹ کے مطابق 2 مرتبہ انٹیلیجنس اداروں کی قیادت کرنے والے پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر نے امریکہ اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے تعطل کا شکار مذاکرات کو بحال کرنے کے لیے ایک غیر معمولی اور نمایاں حکمت عملی اختیار کی ہے، رواں ماہ دونوں حریف ممالک کے درمیان کئی دہائیوں کی اہم ترین ملاقات کی صدارت کرنے کے بعد وہ چند روز تک تہران میں مقیم رہے جہاں انہوں نے ایرانی سیاسی و عسکری قیادت سمیت پاسدارانِ انقلاب سے بھی رابطے کیے، اس دوران وہ مسلسل وائٹ ہاؤس سے بھی رابطے میں رہے۔
The military man trying to save US-Iran peace talks https://t.co/cdqNi8Fg8r
— Financial Times (@FT) April 22, 2026
رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان حالیہ عرصے میں تعلقات میں بہتری مختلف معاشی اور سفارتی معاملات کے باعث ہوئی، جس میں معدنیات، کرپٹو کرنسی اور دیگر شعبے شامل ہیں، پاکستان کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کرنے نے بھی تعلقات کو تقویت دی، اگرچہ امریکہ ایران مذاکرات میں پاکستان کا کردار ماضی میں نمایاں نہیں رہا لیکن اس بار پاکستان ایک غیر متوقع مگر اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے، تاہم اس ہفتے مذاکرات کی بحالی کی کوششیں تعطل کا شکار ہونے کے بعد عاصم منیر کو ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔
فنانشل ٹائمز نے لکھا کہ ماضی میں یورپی ممالک، قطر اور عمان بھی اس تنازعہ کے حل کی کوشش کرتے رہے مگر خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہو سکی، پاکستانی حکمت عملی سابقہ طریقوں سے مختلف ہے، 2015ء کے جوہری معاہدے کے لیے جنیوا اور ویانا میں طویل اور پیچیدہ مذاکرات ہوئے تھے لیکن عاصم منیر نے زیادہ براہ راست اور ہمہ جہتی انداز اپنایا ہے، وہ ناصرف ایران کی عسکری قیادت سے رابطے میں ہیں بلکہ امریکی صدرٹرمپ سے بھی ذاتی سطح پر تعلق رکھتے ہیں۔
رپورٹ میں ماہرین نے کہا کہ عاصم منیر ایران کے طاقت کے مختلف مراکز کو سمجھتے ہیں اور ایک جامع حکمت عملی کے تحت سفارت کاری کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی فریق کو نظرانداز نہ کیا جائے، تاہم منگل کے روز اس وقت پیشرفت رک گئی جب ایران نے اسلام آباد میں مذاکرات میں شرکت سے انکار کر دیا، یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان عدم اعتماد کس حد تک گہرا ہے، ایک طرف صدر ٹرمپ ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی ختم کرنے سے انکار کر رہے ہیں، دوسری جانب ایران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے پر آمادہ نہیں۔




