اسلام اباد: پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے وفاقی دارالحکومت کے تجارتی مرکز بلیو ایریا میں ایک جدید اور کثیر المنزلہ ایوی ایشن کمپلیکس تعمیر کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے، جو ممکنہ طور پر اسلام آباد کی بلند ترین عمارت ہوگی۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے شہر کے قلب میں واقع بلیو ایریا میں ایک کثیر المقاصد فلک بوس عمارت تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس منصوبے کا مقصد ہوا بازی کے شعبے سے وابستہ تمام سہولیات کو ایک ہی چھت تلے جمع کرنا ہے، یہ جدید کمپلیکس تقریباً 9 ہزار مربع گز کی وسیع اراضی پر تعمیر کیا جائے گا، اس عمارت میں پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے اپنے دفاتر کے علاوہ مختلف ملکی و غیر ملکی ایئرلائنز کے ہیڈکوارٹرز بھی قائم کیے جائیں گے۔
بتایا گیا ہے کہ منصوبے کے ڈیزائن میں لگژری ہوٹلز، ایک جدید میوزیم، فوڈ کورٹس اور دیگر تجارتی مراکز شامل کیے گئے ہیں، کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے اس بلند و بالا عمارت کے نقشے کی باقاعدہ منظوری پہلے ہی دے دی ہے، ماحولیاتی اور دیگر اثرات کے جائزے کے حوالے سے اس منصوبے پر 18 مئی کو عوامی سماعت منعقد کی جائے گی۔
بتایا جارہا ہے کہ اسلام آباد کے موجودہ بلند ترین ڈھانچوں کے مقابلے میں اس نئی عمارت کی پوزیشن ابھی بحث طلب ہے، تاہم اس وقت زیرِ تعمیر ‘گارڈن ریزیڈنشل اپارٹمنٹ’ کو 470 فٹ کے ساتھ شہر کی بلند ترین عمارت مانا جاتا ہے، ‘سینٹورس مال’ 335 فٹ کی اونچائی کے ساتھ دوسرے نمبر پر موجود ہے، اگرچہ حکام نے ابھی اس کمپلیکس کی حتمی اونچائی ظاہر نہیں کی، تاہم اسے دارالحکومت کی بلند ترین عمارتوں کی فہرست میں ایک اہم اضافہ قرار دیا جا رہا ہے، یہ منصوبہ نہ صرف اسلام آباد کے سکائی لائن کو تبدیل کر دے گا بلکہ اس سے ایوی ایشن سیکٹر میں تجارتی سرگرمیوں کو بھی بڑا فروغ ملنے کی توقع ہے۔




